ملفوظات (جلد 8) — Page 196
اور مبلغین اور واعظین کے لیے ایک الگ جماعت کھولی جاوے۔اس کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے۔خواجہ صاحب نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا کہ دنیا کی کامیابیاں بھی دین ہی کے ماتحت ہیں اور دین سے الگ ہو کر دنیا کی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی۔غرض خواجہ صاحب کی تقریر کا خلاصہ ’’سلسلہ کی ضروریات اور ان کی تکمیل کے لیے قوم کے اپنے فرائض‘‘ تھا اور اس میں صحابہ کرام کے زمانہ کا اس زمانہ سے مقابلہ کر کے بتایا کہ انہوں نے تو جانیں فدا کر دیں۔اس وقت جانوں کی ضرورت نہیں اس لیے کہ خدا کے مسیح نے جہاد کی حرمت کا فتویٰ شائع کر دیا ہے۔اب اگر ضرورت ہے تو مال خرچ کرنے کی ضرورت ہے اس لیے کوئی مستقل فنڈ ہونا چاہیے۔خواجہ صاحب اس پر تقریر کر ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تشریف لائے۔خواجہ صاحب نے سلسلہ کی ضروریات کے روز افزوں اخراجات کا ذکر کر کے جماعت کو متوجہ کیا۔ان کے بیٹھ جانے پر خدام نے عرض کی کہ حضور کچھ ارشاد فرما دیں۔جس پر آپؑنے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والوں کے لئے بشارت دیکھو! جو کچھ خواجہ صاحب نے بیان کیا ہے یہ سب کچھ صحیح اور درست ہے۔لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ اس جماعت کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اپنی عملی حالت، قوتِ ایمانی کو درست کر کے دکھاویں کیونکہ جب تک عملی رنگ میں ایمان ثابت نہ ہو صرف زبان سے ایمان اللہ کے نزدیک منظور نہیں اور وہ کچھ نہیں۔زبان میں تو ایک مخلص اور منافق یکساں معلوم ہوتے ہیں۔ہر ایک شخص جو اپنا صدق اور ثباتِ قدم ثابت کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ عملی طور پر ظاہر کرے جب تک عملی طور پر قدم آگے نہیں رکھتا آسمان پر اس کو مومن نہیں کہا جاتا۔بعض شخصوں کے دل میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ آئے دن ہم پر ٹیکس لگائے جاتے ہیں کہاںتک برداشت کریں۔میں جانتا ہوں کہ ہر شخص ایسا دل نہیں رکھتا کیونکہ ایک طبیعت کے ہی سب نہیں ہوتے۔بہت سے تنگدل اور کم ظرف ہوتے ہیں اور اس قسم کی باتیں کر بیٹھتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے