ملفوظات (جلد 8) — Page 192
سے ثابت ہوتا ہے کہ پیدائش دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک مَسِّ روح القدس سے اور ایک مَسِّ شیطان سے۔تمام نیک اور راستباز لوگوں کی اولاد مَسِّ روح القدس سے ہوتی ہے اور جو اولاد بدی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ۔مَسِّ شیطان سے ہوتی ہے۔تمام انبیاء۔مَسِّ روح القدس سے پیدا ہوئے تھے مگر چونکہ حضرت عیسیٰ کے متعلق یہودیوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ وہ نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں اور مریم کا ایک اور سپاہی پنڈارا نام کے ساتھ تعلق ناجائز کا ذریعہ ہیں اور۔مَسِِّّ شیطان کا نتیجہ ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمہ سے یہ الزام دور کرنے کے واسطے ان کے متعلق یہ شہادت دی تھی کہ ان کی پیدائش بھی۔مَسِّ روح القدس سے تھی۔چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کے متعلق کوئی اس قسم کا اعتراض نہ تھا۔اس واسطے ان کے متعلق ایسی بات بیان کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین عبد اللہ اور آمنہ کو تو پہلے ہی سے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کے متعلق ایسا خیال و گمان بھی کبھی کسی کو نہ ہوا تھا۔ایک شخص جو مقدمہ میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اس کے واسطے صفائی کی شہادت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جو شخص مقدمہ میں گرفتار ہی نہیں ہوا۔اس کے واسطے صفائی شہادت کی کچھ ضرورت ہی نہیں۔معراج کی حقیقت ایسا ہی ایک اور غلطی جو مسلمانوں کے درمیان پڑ گئی ہوئی ہے وہ معراج کے متعلق ہے ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا۔مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا سو یہ عقیدہ غلط ہے۔اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔وہ ایک وجود تھا مگر نورانی اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو۔ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـرآءیل:۹۴) کہہ دے میرا ربّ