ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 174

یہودا اسکریوطی تھا اس نے تیس روپیہ پر اپنے آقا و مرشد کو بیچ دیا اور دوسرے نے جو سب سے اول نمبر پر ہے اور شاگرد رشید کہلاتا تھا اور جس کے ہاتھ میں بہشت کی کنجیاں تھیں یعنی پطرس اس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ لعنت کی۔جب خود حضرت مسیح کی موجودگی میں ان کا اثر اور فیض اس قدر تھا اور اب انیس سو سال گذرنے کے بعد خود اندازہ کر لو کہ کیا باقی رہا ہوگا۔اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت طیار کی تھی وہ ایسی صادق اور وفادار جماعت تھی کہ انہوں نے آپ کے لیے جانیں دے دیں، وطن چھوڑ دیئے، عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا۔غرض آپ کے لیے کسی چیز کی پروا نہ کی۔یہ کیسی زبردست تاثیر تھی۔اس تاثیر کا بھی مخالفوں نے اقرار کیا ہے اور پھر آپ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر وہی برکات اب بھی موجود ہیں۔قرآن کریم اور انجیل کا موازنہ اور پھر تاثیر کا ایک اور بھی نمونہ قابل ذکر ہے کہ انجیل کا کہیں پتہ ہی نہیں لگتا۔خود عیسائیوں کو اس امر میں مشکلات ہیں کہ اصل انجیل کون سی ہے اور وہ کس زبان میں تھی اور کہاں ہے؟ مگر قرآن شریف کی برابر حفاظت ہوتی چلی آئی ہے۔ایک لفظ اور نقطہ تک اس کا ادھر ادھر نہیں ہو سکتا۔اس قدر حفاظت ہوئی ہے کہ ہزاروں لاکھوں حافظ قرآن شریف کے ہر ملک اور ہر قوم میں موجود ہیں جن میں باہم اتفاق ہے ہمیشہ یاد کرتے اور سناتے ہیں۔اب بتاؤ کہ کیا یہ آپ کے برکات اور زندہ برکات نہیں ہیں؟ اور کیا ان سے آپ کی حیات ثابت نہیں ہوتی؟ غرض کیا قرآن شریف کی حفاظت کے رو سے اور کیا تجدید دین کے لیے ہر صدی پر مجدّد کے آنے کی حدیث سے اور کیا آپؐکی برکات اور تاثیرات سے جو اب تک جاری ہیں آپ کی حیات ثابت ہوتی ہے اب غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے عقیدہ نے دنیا کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟ کیا اخلاقی اور عملی طور پر دنیا کی اصلاح ہوئی ہے یا فساد پیدا ہوا ہے؟ اس امر پر جس قدر غور کریں گے اسی قدر اس کی خرابیاں ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔میں سچ کہتا ہوں کہ اسلام نے اس