ملفوظات (جلد 8) — Page 168
وفات پاچکےہیں۔اس کے سوا اور کوئی نیا امر ایسا نہیں جو ہمارے اور ان کے درمیان اصولی طور پر قابلِ نزاع ہو۔اس سے چونکہ کامل طور پر سلسلہ کی بعثت کی غرض کا پتہ نہ لگ سکتا تھا بلکہ ایک امر مشتبہ اور کمزور معلوم ہوتا تھا اس لیے ضروری امر تھا کہ آپ اس کی اصلاح فرماتے۔چونکہ اس وقت کافی وقت نہ تھا۔اس لیے ۲۷؍دسمبر کو بعد ظہر و عصر آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنی بعثت کی اصل غرض پر کچھ تقریر فرمائیں۔آپ کی طبیعت بھی ناساز تھی۔تاہم محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔فرمایا۔افسوس ہے اس وقت میری طبیعت بیمار ہے اور میں کچھ زیادہ بول نہیں سکتا لیکن ایک ضروری امر کی وجہ سے چند کلمے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔کل میں نے سنا تھا کہ کسی صاحب نے یہ بیان کیا تھا کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں کے درمیان فرق موت و حیات مسیح علیہ السلام کا ہے ورنہ ایک ہی ہیں اور عملی طور ہمارے مخالفوں کا قدم بھی حق پر ہے یعنی نماز روزہ اور دوسرے اعمال مسلمانوں کے ہیں اور وہ سب اعمال بجا لاتے ہیں۔صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں ایک غلطی پڑ گئی تھی جس کے ازالہ کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ پیدا کیا۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں۔یہ تو سچ ہے کہ مسلمانوں میں یہ غلطی بہت بُری طرح پر پیدا ہوئی ہے۔لیکن اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میرا دنیا میں آنا صرف اتنی ہی غلطی کے ازالہ کے لیے ہے اور اور کوئی خرابی مسلمانوں میں ایسی نہ تھی جس کی اصلاح کی جاتی بلکہ وہ صراط مستقیم پر ہیں تو یہ خیال غلط ہے۔میرے نزدیک وفات یا حیات مسیح ایسی بات نہیں کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ اتنا بڑا سلسلہ قائم کرتا اور ایک خاص شخص کو دنیا میں بھیجا جاتا اور اللہ تعالیٰ ایسے طور پر اس کو ظاہر کرتا جس سے اس کی بہت بڑی عظمت پائی جاتی ہے یعنی یہ کہ دنیا میں تاریکی پھیل گئی ہے اور زمین لعنتی ہوگئی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت۱ کی غلطی کچھ آج پیدا نہیں ہوگئی بلکہ یہ غلطی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد پیدا ہوگئی تھی اور خواص، اولیاء اللہ، صلحاء اور اہل اللہ بھی آتے رہے اور لوگ اس غلطی میں گرفتار رہے۔اگر اس غلطی ہی کا ازالہ مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس وقت بھی کر دیتا ۱ یہ لفظ در اصل ’’حیات‘‘ ہے جو سہو کتابت سے ’’موت‘‘ لکھا گیا ہے (مرتّب)