ملفوظات (جلد 8) — Page 165
ہے۔اس لیے میں جب ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں اور سمجھ نہیں سکتا کہ ہمارا جو مطلب ہے وہ کیونکر پورا ہو سکتا ہے۔اگر موجودہ صورت ہی کو قائم رکھیں اور کوئی انتظام نہ کیا گیا تو پھر ان ساری تقریروں سے فائدہ کیا ہوا؟ اور اگر اس پر مضامین بڑھادیں تو اوستاد واویلا کرتے ہیں کہ وقت تھوڑا ہے اور ساتھ ہی لڑکوں کی صحت کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔خلاصہ یہ کہ اس نکتہ کو مد نظر رکھو کہ ایسے لوگ طیار ہو جاویں گے۔اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے سامنے طیار ہوں۔خدا تعالیٰ نے جو نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا (ھود:۳۸) تو کشتی ہمارے سامنے بنا اسی طرح پر میں اس جماعت کو اپنے سامنے تیار کرانا چاہتا ہوں۔فائدہ اسی سے ہوگا۔مسیح موعود کی صحبت کا اثر میں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایک ہفتہ ہماری صحبت میں رہے اور اسے ہماری تقریریں سننے کا موقع مل جاوے کہ وہ مشرق و مغرب کے مولوی سے بڑھ جاوے گا۔اس لیے جو کچھ ہو میرے سامنے ہوآپ لوگ اس کی فکر کریں۔میں اس امر میں تمہارے ساتھ اتفاق رائے کرتا ہوں کہ مدرسہ کو توڑا نہ جاوے۔ان کے لیے تو تعطیل کا دن مناظرات اور دینیات کے واسطے قرار دیا جاوے۔ہمارا یہ مطلب نہیں کہ سب کے سب مولوی ہی ہو جاویں اور نہ ایسا ہوسکتا ہے۔ہاں اگر ان میں سے ایک بھی نکل آوے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا مقصد پورا ہوگیا اور باقیوں کو کم از کم اپنے دین ہی کی خبر ہو جاوے گی اور وہ غیر قوموں کے فتنہ میں نہ پڑ سکیں گے۔ہماری کسی سے دشمنی نہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مخالف مذہبوں کے لوگوں سے ہمیں کوئی دشمنی نہیں بلکہ ان کے سچے خیر خواہ اور ہمدرد ہم ہیں۔لیکن کیا کریں ہمارا مسلک اس جراح کی طرح ہے جس کو ایک پھوڑے کو چیرنا پڑتا ہے اور پھر وہ اس پر مرہم لگاتا ہے۔بیوقوف مریض پھوڑے کے چیرنے کے وقت شور مچاتا ہے حالانکہ اگر وہ سمجھے تو اس پھوڑے کو چیرنے کی اصل غرض اسی کے مفید مطلب ہے کیونکہ جب تک وہ چیرا نہ جاوے گا اور