ملفوظات (جلد 8) — Page 156
جگہ داخل نہ ہوگا۔یا زہر کے کھانے سے مر جانے کا یقین زہر کے کھانے سے بچاتا ہے پھر اگر خدا تعالیٰ پر پورا پورا یقین ہو کہ وہ سمیع اور بصیر ہے اور ہمارے افعال کی جزا دیتا ہے اور گناہ سے اسے سخت نفرت ہے تو اس یقین کو رکھ کر انسان کیسے جرأت کر سکتا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ اسلام کی روح اور اصل حقیقت تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف وہ انسان کو عطا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ آسمان سے انعام و اکرام ملتے ہیں۔جب انسان اس مرتبہ اور مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی نسبت کہا جاتا ہے اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو کامل ترقی پاکر اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے نجات پائی ہے۔تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ غرض جب کہ یہ حالت ہے اور اسلام کے دنیا میں آنے کی یہ غرض اور غایت ہے اور نجات کی حقیقت بغیر اس کے متحقق نہیں ہوتی تو ہماری جماعت کو کس قدر فکر کرنا چاہیے کہ وہ ان باتوں کو جب تک حاصل نہ کر لیں اس وقت تک بے فکر اور مطمئن نہ ہو جاویں۔میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت ایک درخت کی طرح ہے وہ اصلی پھل جو شیریں ہوتا اور لذت بخشتا ہے نہیں آیا۔جیسے درخت کو پہلے پھول اور پتے نکلتے ہیں۔پھر اس کو پھل لگتا ہے جو سنیرو پھل کہلاتا ہے وہ گر جاتا ہے پھر ایک اور پھل آتا ہے اس میں سے کچھ جانور کھا جاتے ہیں اور کچھ تیز آندھیوں سے گر جاتے ہیں۔آخر جو بچ رہتے ہیں اور آخر تک پک کر کھانے کے قابل ہوتے ہیں وہ تھوڑے ہوتے ہیں۔اسی طرح سے میں دیکھتا ہوں کہ یہ جماعت تو ابھی بہت ہی ابتدائی حالت میں ہے اور پتے بھی نہیں نکلے چہ جائیکہ ہم آج ہی پھل کھائیں۔ابھی تو سبزہ ہی نکلا ہے جس کو ایک کتا بھی پامال کر سکتا ہے۔ایسی حالت میں حفاظت کی کس قدر ضرورت ہے؟ پس تم استقامت اور اپنے نمونے سے اس درخت کی حفاظت کرو۔کیونکہ تم میں سے ہر ایک اس درخت کی شاخ ہے اور وہ درخت اسلام کا شجر ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس شجر کی حفاظت کی جاوے۔