ملفوظات (جلد 8) — Page 155
اور انہیں بشارت دیں کہ تم کوئی غم نہ کرو۔یہ یقیناً یاد رکھو کہ وحی اور الہام کے سلسلہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ وعدے کئے ہیں۔اور یہ اسلام ہی سے مخصوص ہے۔ورنہ عیسائیوں کے ہاں بھی مہر لگ چکی ہے۔وہ اب کوئی شخص ایسا نہیں بتا سکتے جو اللہ تعالیٰ کے مخاطبہ مکالمہ سے مشرف ہو۔اور ویدوں پر تو پہلے ہی سے مہر لگی ہوئی ہے۔ان کا تو مذہب ہی یہی ہے کہ ویدوں کے الہام کے بعد پھر ہمیشہ کےلیے یہ سلسلہ بند ہوگیا۔گویا خدا پہلے کبھی بولا تھا مگر اب وہ گونگا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت کلام نہیں کرتا اور کوئی اس کے اس فیض سے بہرہ ور نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ پہلے بولتا تھا اور یا اب وہ سنتا اور دیکھتا بھی ہے؟ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں مسلمانوں کے منہ سے اس قسم کے الفاظ نکلتے سنتا ہوں کہ اب مخاطبہ مکالمہ کی نعمت کسی کو نہیں مل سکتی۔یہ کیوں عیسائیوں یا آریوں کی طرح مہر لگاتے ہیں؟ اگر اسلام میں یہ کمال اور خوبی نہ ہو تو پھر دوسرے مذاہب پر اسے کیا فخر اور امتیاز حاصل ہوگا؟ نری توحید سے تو نہیں ہو سکتا کیونکہ برہمو بھی تو ایک ہی خدا کو مانتا ہے۔وہ بھی صدقہ دیتا ہے خدا کو اپنے طور پر یاد بھی کرتا ہے اور یہی اخلاقی صفات اس میں پائے جاتےہیں تو پھر ایک مسلمان میں اور اس برہمو میں کیا فرق ہوا؟ یہ امور تو نقل سے بھی ہو سکتے ہیں اس کا کیا جواب ہے؟ کچھ بھی نہیں۔بجز اس کے کہ اسلام کا روشن چہرہ ان امتیازی نشانوں کے ذریعہ دکھایا جاوے جو خدا تعالیٰ کے مکالمہ کے ذریعہ ملتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ اصل جو فضل آسمان سے آتا ہے اس کی کوئی چوری اور نقل نہیں کر سکتا۔اگر اسلام میں مکالمہ مخاطبہ اور تفضّلات نہ ہوتے تو اسلام کچھ بھی چیز نہ ہوتا۔اس کا یہی تو فخر ہے کہ وہ ایک سچے مسلمان کو ان انعامات و اکرام کا وارث بنا دیتا ہے اور وہ فی الحقیقت خدا نما مذہب ہے۔اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دکھا دیتا ہے اور یہی غرض ہے اسلام کی۔کیونکہ اسی ایک ذریعہ سے انسان کی گناہ آلود زندگی پر موت وارد ہو کر اسے پاک صاف بنا دیتی ہے اور حقیقی نجات کا دروازہ اس پر کھلتا ہے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہ ہو گناہ سے کبھی نجات مل سکتی ہی نہیں۔جیسے یہ ایک ظاہر امر ہے کہ جب انسان کویقین ہو کہ فلاں جگہ سانپ ہے تو وہ ہرگز ہرگز اس