ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 154

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر اتنا ہی ایمان ہے تو پھر ہدایت کیا ہے؟ وہ ہدایت یہ ہے کہ ایسا انسان خود اس قابل ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی اور الہام کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور وہ وحی الٰہی اس پر بھی اترتی ہے جس سے اس کا ایمان ترقی کر کے کامل یقین اور معرفت کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ اس ترقی کو پالیتا ہے جو ہدایت کا اصل مقصود تھا۔اس پر وہ انعام و اکرام ہونے لگتےہیں جو مکالمہ الٰہیہ سے ملتے ہیں۔اسلام میں وحی و الہام کا دروازہ کھلا ہے یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا۔جو لوگ اس امت کو الہام و وحی کے انعامات سے بے بہرہ ٹھیراتےہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوںنے سمجھا ہی نہیں۔ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات اور برکات کا معاذ اللہ خاتمہ ہوچکا۔اور وہ خدا جو ہمیشہ سے متکلم خدا رہا ہے اب اس زمانہ میں آکر خاموش ہوگیا۔وہ نہیں جانتے کہ اگر مکالمہ مخاطبہ نہیں تو هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کا مطلب ہی کیاہوا؟ بغیر مکالمہ مخاطبہ کے تو اس کی ہستی پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔اور پھر قرآن شریف میں یہ کیوں کہا وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا (حٰمٓ السجدۃ:۳۱) یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ فرشتوںکا نزول ہو اور مخاطبہ نہ ہو۔نہیں بلکہ وہ انہیں بشارتیں دیتے ہیں۔یہی تو اسلام کی خوبی اور کمال ہے جو دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہے۔استقامت بہت مشکل چیز ہے یعنی خواہ ان پر زلزلے آئیں، فتنے آئیں، وہ ہر قسم کی مصیبت اور دکھ میں ڈالے جاویں مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا۔ان کا اخلاص اور وفاداری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر خدا کے فرشتے اتریں