ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 150

جاتی ہے۔اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفخ کر دیتی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میںكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) فرمایا ہے۔اور اسلام کی خوبیوں میں سے یہ ایک بے نظیر خوبی ہے کہ ہرزمانہ میں ایسے صادق موجود رہتے ہیں۔لیکن آریہ سماجی یا عیسائی اس طریق سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ ان کے ہاں یہ مسلّم امر ہے کہ اب کوئی شخص خدا رسیدہ ایسا ہو نہیں سکتا جس پر خدا تعالیٰ کی تازہ بتازہ وحی نازل ہو اور وہ اس سے توفیق پاکر ان لوگوں کو صاف کرے جو گناہ آلود زندگی بسر کرتے ہیں۔میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ آریہ سماج کے اندر ایک نیش ہے وہ بے جا طور سے مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اعتراض کرنا ہی اپنے مذہب کی خوبی اور کمال پیش کرتے ہیں۔لیکن جب ان سے پوچھا جاوے کہ اسلام کے مقابلہ میں روحانیت پیش کرو۔تو کچھ نہیں۔نکتہ چینی کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہو سکتی۔وہ شخص بڑا بد نصیب اور نادان ہے جو بغیر اس کے کہ کسی منزل پر پہنچا ہو دوسروں پر نکتہ چینی کرنے لگے۔ایک بچہ جو اقلیدس کے اصولوں سے ناواقف ہے اور ان نتائج سے بے خبر ہے جو اس کی اشکال سے پیدا ہوتے ہیں۔وہ ان ٹیڑھی لکیروں کو دیکھ کر کب خوش ہوسکتا ہے وہ تو اعتراض کرے گا لیکن عقلمندوں کے نزدیک اس اعتراض کی کیا وقعت اور حقیقت ہو سکتی ہے۔ایسا ہی حال ان آریوں کا ہے۔وہ اعتراض کرتے ہیں مگر خود حق اور حقیقت سے بے خبر اور محروم ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے آگاہ نہیں اور اس کی طاقتوں کا انہیں علم نہیں ہے اور نہ انہیں وہ حواس ملے ہیں جو وہ اسی عالَم میں بہشتی نظاروں کو دیکھ سکیں اور اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کے نمونے مشاہدہ کریں۔ایسے مذہب کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔وہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔اسلام کی صداقت یہ خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی نابینا مذہب کی تائید نہیں کرتا اور کوئی نصرت اسے نہیں دی جاتی۔اسلام کی سچائی کی یہی بڑی زبردست دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرماتا ہے اور اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے