ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 149

اس لیے کہ وہ پرورش اس کا ایک طبعی تقاضا ہے۔وہ کسی امید یا خوف پر مبنی نہیں۔اسی طرح پر جب انسان نیکی میں ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچتا ہے کہ وہ نیکیاں اس سے ایسے طور پر صادر ہوتی ہیں گویا ایک طبعی تقاضا ہے تو یہی وہ حالت ہے جو مطمئنّہ کہلاتی ہے۔غرض يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ کے یہ معنے ہیںکہ جب تک نفسِ مطمئنّہ نہ ہو۔اسی کشاکش میں لگا رہتا ہے۔کبھی نفس غالب آجاتا ہے اور کبھی آپ غالب آجاتا ہے۔صبح کو اٹھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ٹھنڈا پانی ہے اس کو نہانے کی حاجت ہے۔پس اگر نفس کی بات مان لیتا ہے تو نماز کو کھو لیتا ہے اور اگر ہمت سے کام لیتا ہے تو اس پر فتح پالیتا ہے۔شکر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ خود مجھے ایسی حالت پیش آئی۔سردی کا موسم تھا مجھے غسل کی حاجت ہوگئی۔پانی گرم کرنے کے لیے کوئی سامان اس جگہ نہ تھا۔ایک پادری کی لکھی ہوئی کتاب میزان الحق میرے پاس تھی اس وقت وہ کام آئی۔میں نے اس کو جلا کر پانی گرم کر لیا اور خدا کا شکر کیا۔اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ بعض وقت شیطان بھی کام آجاتا ہے۔پھر میں اصل مطلب کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ کے یہی معنے ہیں اور اس پر ترقی یہی ہے کہ ایسی حالت سے نجات پاکر مطمئنّہ کی حالت میں پہنچ جاوے۔خوب یاد رکھو کہ نرا غیب پر ایمان لانے کا انجام خطرناک ہوتا رہا ہے۔افلاطون جب مرنے لگا تو کہنے لگا کہ میرے لیے بُت پر ایک مرغا ہی ذبح کرو۔جالینوس نے کہا میری قبر میں خچر کے پیشاب گاہ کے برابر ایک سوراخ رکھ دینا تاکہ ہوا آتی رہے۔اب غور کرو کہ کیا ایسے لوگ ہادی ہوسکتے ہیں جو ایسی مذبذب اور مضطرب حالت میں ہوتے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ جب تک اندر روشنی پیدا نہ ہو کیا فائدہـ؟ لیکن یہ روشنی خدا تعالیٰ کے فضل ہی سے ملتی ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سب طبائع یکساں نہیں ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ نے سب کو نبی پیدا نہیں کیا۔صادقین کی صحبت کا اثر لیکن صحبت میں بڑا شرف ہے۔اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہو تو پاس والے کو بھی پہنچ ہی