ملفوظات (جلد 8) — Page 139
یہ یاد رکھو کہ جب کوئی قوم تباہ ہونے کو آتی ہے تو پہلے اس میں جہالت پیدا ہوتی ہے اور وہ دین جو انہیں سکھایا گیا تھا اسے بھول جاتے ہیں۔جب جہالت پیدا ہوتی ہے تو اس کے بعد یہ مصیبت اور بلا آتی ہے کہ اس قوم میں تقویٰ نہیں رہتا اور اس میں فسق و فجور اور ہر قسم کی بدکرداری شروع ہو جاتی ہے اور آخر اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم کو ہلاک کر دیتا ہے کیونکہ تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓـؤُا (فاطر:۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خشیت اللہ کو پیدا کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ جو شخص پورے طور پر عالَم ہوگا اس میں ضرور خشیت اللہ پیدا ہوگی۔علم سے مراد میری دانست میں علم القرآن ہے۔اس سے فلسفہ، سائنس یا اور علوم مروجہ مراد نہیں کیونکہ ان کے حصول کےلیے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر ان کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔لیکن علم القرآن بجز متقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔پس اس جگہ علم سے مراد علم القرآن ہی ہے جس سے تقویٰ اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔مبلغین کے لیے دنیوی علوم کی ضرورت ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جس قوم سے تمہیں مقابلہ پیش آوے اس مقابلہ میں تم بھی ویسے ہی ہتھیار استعمال کرو جیسے ہتھیار وہ مقابلہ والی قوم استعمال کرتی ہے۔اور چونکہ آجکل مذہبی مناظرہ کرنے والے لوگ ایسے امور پیش کر دیتے ہیں جن کا سائنس اور موجودہ علوم سے تعلق ہے اس لیے اس حد تک ان علوم میں واقفیت اور دخل کی ضرورت ہے۔جیسے مثلاً اعتراض کر دیتے ہیں کہ جن ممالک میں چھ ماہ تک آفتاب طلوع یا غروب نہیں ہوتا وہاں نماز یا روزہ کے احکام کی تعمیل کس طرح پر ہوگی؟ اب جو شخص ان ممالک سے واقف نہیں یا ان باتوں پر اطلاع نہیں رکھتا وہ سنتے ہی گھبرا جاوے گا اور حیران ہو کر رہ جائے گا۔ایسا اعتراض کرنے والوں کا منشا یہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کی تکمیل کو ناقص قرار دیں کہ ایسے ممالک کے لیے کوئی اور حکم ہونا چاہیے