ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 137

الٹ کر اسی کے آ لگی۔بعض نے کہا کہ وہ شہید نہیں ہوا۔اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں شہید نہیں ہوا اس لیے کہ اسے اس بات کا سخت غم تھا۔آپ نے فرمایا کہ تجھ کو دو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔اس لیے کہ ایک تو تو نے دشمن پر حملہ کیا۔دوسرے خود اسی راہ میں مارا گیا۔بات کیا تھی؟ صرف یہ کہ وہ نہ چاہتے تھے کہ یہ مرتبہ شہادت ہم سے رہ جاوے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دیا تھا اور اتنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت اورمعرفت الٰہی میں اعلیٰ درجہ تک پہنچ گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کی عقل فہم اور فراست میں بہت بڑی ترقی ہو گئی تھی۔ایک انگریز جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ لکھتا ہے کہ صحابہؓ میں علاوہ اس کے کہ ان میں صدق اور ایمان کی وہ طاقت موجود تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سر دینے کو طیار ہوجاتے تھے اور ایسی جگہ کھڑے ہوتے تھے جہاں بجز جان دینے کے اور کوئی چارہ ہی نہ ہوتا تھا لیکن برخلاف اس کے مسیح کے حواریوں کی یہ حالت تھی کہ خود انہیں میں سے ایک نے تیس روپیہ لے کر پکڑوا دیا اور دوسرے اس کے پاس سے بھاگ گئے اور دو گھڑی بھی اس کے ساتھ نہ ٹھیر سکے۔سامنے کھڑے ہو کر ایک نے لعنت کی۔ایسے حواریوں کو صحابہ کے ساتھ کیا نسبت اور کیا مقابلہ؟ پھر عقلی طور پر مقابلہ کر کے لکھا ہے کہ حواریوں کی تو یہ حالت تھی کہ وہ ایک گاؤں کا انتظام کرنے کی بھی قابلیت نہ رکھتے تھے۔برخلاف ان کے صحابہؓ نے علومِ سیاست اور حکمرانی میں وہ کمال دکھایا اور ایسی اعلیٰ قابلیت کا ثبوت دیا کہ آج اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔انہوں نے ایک عظیم الشان سلطنت کا انتظام کیا۔حضرت عمر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کا نمونہ موجود ہے۔حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں ایسا خطرناک فتنہ پیدا ہوا تھا اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو سخت مشکلات کا سامنا تھا مگر حضرت ابوبکر نے خدا تعالیٰ سے تائید پاکر اس فتنہ کو اور جو جنگلی بادیہ نشین مرتد ہوگئے تھے ان کو سدھارا اور درست کیا۔غرض باوجود اس بات کے کہ وہ طیار شدہ تھے اور صدق اور نور سے بھرے