ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 136

میرا غم امید سے بدل جاتا ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ ایسی جماعت نہ ہوگی۔نہیں جماعت تو ضرور ہوگی اس لیے کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ایسے لوگ ضرور ہوں گے۔مگر غم اس بات کا ہے کہ ابھی جماعت کچی ہے اور پیغام موت آرہا ہے۔گویا جماعت کی حالت اس بچہ کی سی ہے جس نے ابھی دو چار روز دودھ پیا ہو اور اس کی ماں مر جائے۔۱ بہرحال خدا تعالیٰ کے وعدوں پر میری نظر ہے اور وہ خدا ہی ہے جو میری تسکین اور تسلّی کا باعث ہے۔ایسی حالت میں کہ جماعت کمزور اور بہت کچھ تربیت کی محتاج ہے۔یہ ضروری امر ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرو۔اور اسی کو مقدم کر لو اور اپنے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک جماعت کو نمونہ سمجھو ان کے نقش قدم پر چلو۔صحابہ کرام کی پاک جماعت کا نمونہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ وہ ایک ایسی صادق جماعت تھی جو اپنے ایمان قوی کے لحاظ سے جان فدا کرنے میں بھی دریغ نہ کرتی تھی بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ اس کی نظیر مل سکتی ہی نہیں۔جب ہم دوسری قوموں کا ان سے مقابلہ کرتے ہیں تو ان کی عظمت اور شوکت کا اور بھی دل پر اثر ہوتا ہے۔۲ اور جس قدر غور کرتے جاویں آپؐکے مراتب اور مدارج پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیسی قوتِ قدسی عنایت فرمائی تھی اور اس میں ایسی تاثیر اور طاقت رکھی تھی کہ صحابہؓ جیسی جان نثار قوم آپ نے طیار کی۔آپ ایسی قوم چھوڑ گئے تھے جو خالص خدا ہی کے لیے قدم اٹھانے والی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسے سر گرم اور طیار تھے اور اس راہ میں انہیں جان دے کر ایسی خوشی ہوتی تھی کہ آجکل کے دنیا داروں کو کسی مقدمہ کی فتح سے بھی وہ خوشی نہیں ہو سکتی۔وہ بالکل خدا ہی کے لیے ہوگئے تھے۔ایسی زبردست اور بے مثل تبدیلی کوئی نبی اپنی قوم میں پیدا نہیں کر سکا۔لکھا ہے کہ ایک صحابی جنگ کر رہا تھا اس نے دشمن پر تلوار ماری لیکن وہ تلوار دشمن کے تو نہ لگی ۱ حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کےمنہ سے جس وقت یہ جملے نکلے ان میں کچھ ایسا درد اور رقت تھی کہ اس نے سامعین کو بے قرار کر دیا اور کئی آدمی جو آخر ضبط نہ کر سکے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔(ایڈیٹر) ۲ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳تا ۵