ملفوظات (جلد 8) — Page 4
وہاں بھی آپ کا تعاقب کیا۔ایسی صورت میں جب ان کی شرارتیں اور تکلیفیں حد سے گذر گئیں تو پھر خدا تعالیٰ نے سد باب اور دفاع کے طور پر حکم دیا کہ ان سے جنگ کرو۔چنانچہ پہلی آیت جس میں جہاد کا حکم ہوا وہ یہ ہے اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا الآیۃ(الـحج:۴۰) یعنی ان لوگوں کو اجازت دی گئی کہ وہ جنگ کریں جن پر ظلم ہوا ہے۔مسلمان مظلوم تھے ان کی طرف سے ابتدا نہیں ہوئی تھی بلکہ بانی فساد کفار مکہ تھے۔ایسی حالت میں بھی جب ان کی شرارتیں انتہائی درجہ تک جا پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے آپؐکو مدافعت کے واسطے مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔پس یہ اعتراض محض فضول اور لغو ہے کہ وہ لڑائیاں مذہب کے لیے تھیں۔اگر محض مذہب کے لیے ہوتیں تو جزیہ دینے کی صورت میں ان کو کیوں چھوڑا جاتا۔پھر میں کہتا ہوں کہ عیسائی تو اس قسم کا اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔وہ اپنے گھر میں دیکھیں کہ اسلامی لڑائیاں موسوی لڑائیوں سے زیادہ ہیں؟ اور جبکہ وہ حضرت عیسیٰ کو موسیٰ علیہ السلام کا بھی (معاذ اللہ ) خدا مانتے ہیں تو پھر ان لڑائیوں کا الزام عیسائیوں پر بدستور قائم ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ لڑائیاں اسلامی جنگوں سے زیادہ سخت اور خون ریز تھیں۔اسلامی لڑائیوں میں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا لحاظ کیا جاتا تھا اور ان کو قتل نہیں کیا جاتا تھا مگر موسوی لڑائیوں میں تو ان امور کی پروا نہیں کی جاتی تھی۔ایسا ہی اسلامی جنگوں میں مذہبی عبادت گاہوں اور پھلدار درختوں کو بھی ضائع نہیں کیا جاتا تھا۔مگر موسوی لڑائیوں میں پھلدار درخت تباہ کر دیئے جاتے۔غرض اسلامی جنگ موسوی لڑائیوں کے مقابلہ میں کچھ چیز ہی نہیں۔مامور من اللہ کی جماعت اور ایک الہام فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہی عادت چلی آئی ہے کہ جب کوئی مامور اورمرسل اس کی طرف سے آتا ہے تو اولاً اس کی جماعت میں ضعفاء اور غرباء ہی آتے ہیں۔بادشاہوں یا امراء کو توجہ نہیں ہوتی ہے۔اور آخر اللہ تعالیٰ غرباء کی جماعت کو ہر قسم کی ترقیاں دے دیتا ہے۔میرا ایک الہام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔وہ بادشاہ مجھے دکھائے بھی گئے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی زمانہ آئے گا جب اللہ تعالیٰ بعض کو اس سلسلہ کی سچائی کا فہم عطا کر دے گا۔