ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 129

ہیں کہ یہ وعدے پورے ہوں گے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے وعدے سچے ہیں وہ پورے ہو کر رہتے ہیں۔کوئی انسان ان کو روک نہیں سکتا۔مجاہدہ اور سعی کی ضرورت تاہم دنیا جائے اسباب ہے۔اس لیے اسباب سے کام لینا چاہیے۔دنیا میں لوگ حصول مقاصد کے لیے سعی کرتے ہیں اور اپنے اپنے رنگ پر ہر شخص کوشش کرتا ہے۔دیکھو! ایک کسان کی خواہ کیسی ہی عمدہ زمین ہو آب پاشی کے لیے کنواں بھی ہو لیکن پھر بھی وہ تردد کرتا ہے۔زمین کو جوتتا ہے، قلبہ رانی کر کے اس میں بیج ڈالتا ہے، پھر اس کی آب پاشی کرتا ہے، حفاظت اور نگہبانی کرتا ہے اور بہت کوشش اور محنت کے بعد وہ اپنا ما حصل حاصل کرتا ہے۔اسی طرح پر ہر قسم کے معاملات میں دنیا کے ہوں یا دین کے محنت، مجاہدہ اور سعی کی حاجت اور ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا اثر اوائل صدرِ اسلام میں جبکہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل و کرم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ کو وہ قوتِ قدسی عطا ہوئی کہ جس کے قوی اثر سے ہزاروں بااخلاص اور جان نثار مسلمان پیدا ہو گئے۔آپ کی جماعت ایک ایسی قابل قدر اور قابل رشک جماعت تھی کہ ایسی جماعت کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملی اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو۔میں نے اس امر کے بیان کرنے میں ہرگز ہرگز مبالغہ نہیں کیا بلکہ میں جانتا ہوں کہ وہ جماعت جس مقام اور درجہ پر پہنچی ہوئی تھی اس کو پورے طور پر بیان ہی نہیں کر سکتے۔ہمارے مخالف علماء اور دوسرے فرقے اگرچہ ہمارے مخالف ہیں تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس بیان میں ہم نے مبالغہ کیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت تو ایسی شریر کج فہم تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کو پتھراؤ کرنا چاہتی تھی۔بات بات میں سرکشی اور ضد کر بیٹھتے تھے۔توریت کو پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کی حالت کیسی تھی۔وہ ایک سنگدل قوم تھی۔کیا توریت میں ان کو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ کہا گیا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہاں تو سرکش، ٹیڑھی، شریر وغیرہ ہی لکھتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جماعت وہ