ملفوظات (جلد 8) — Page 128
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فطرتاً دلوں پر اثر پڑ گیا تھا کہ یہی شخص ہے جو اس کفر اور بدعت کو جو اس وقت پھیل رہی ہے دور کر دے گا اور آخر وہ ہو کر رہا۔اسی طرح پر آج ہماری مخالفت کی جاتی ہے۔یہ ہمارے مخالف طبعاً یقین کرتے ہیں کہ ان کے غلط عقائد کا استیصال ہمارے ہی ہاتھ سے ہوگا۔اس لیے وہ فطرتاً ہماری مخالفت کرتے ہیں اور ہم کو دکھ دینے میں کوئی کمی نہیں کرتے مگر ان کے یہ دکھ اور ایذائیں ہمیں اپنے کام سے نہیں روک سکتی ہیں۔یہ سچ ہے کہ آجکل ہم بہت ہی غریب ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی بھی نہیں اور وہی ہمیں بس ہے۔ہمیشہ ہمارے خلاف یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جب اور جس طرح کسی کا بس چلے اس تھوڑی سی قوم کو نابود کر دیا جاوے۔یہ تو اللہ ہی کا فضل ہے کہ وہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔ورنہ مخالفت کی تو یہ حالت ہے کہ اگر کوئی بیرونی مخالف مقدمہ کرے تو اندرونی مخالف اس سے سازش کرتے ہیں اور اس کو ہر قسم کی مدد دیتے ہیں اور اگر کوئی اندرونی مخالف حملہ کرے تو بیرونی دشمن اس سے آملتے ہیں اور پھر سب ایک ہو کر مخالفت میں اٹھتے ہیں۔یہ ساری مخالفتیں بے حقیقت ہیں ان ساری مخالفتوں عداوتوں کو میں دیکھتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں اور مجھے یہ سب بے حقیقت نظر آتی ہیں جب خدا تعالیٰ کے وعدوں پر نظر کرتا ہوں۔چنانچہ اس کا ایک وعدہ یہ ہے جو پچیس برس ہوئے اشاعت پاچکا ہے۔براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ۔یہ وعدہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے منکروں کومیرے متبعین پر غالب نہیں کرے گا بلکہ وہ مغلوب ہی رہیں گے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر لوگ اس فرقہ حقہ کے مخالف ہیں خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی مغلوب رہیں گے۔پس اس وعدہ الٰہی کو دیکھ کر ساری مخالفتیں اور عداوتیں ہیچ نظر آتی ہیں۔اگر چہ ہم مطمئن