ملفوظات (جلد 8) — Page 121
دعوت طیار کی جائے۔اور تو کوئی چیز موجود نہ تھی ان دونوں نے اپنے آپ کو نیچے اس آگ میں گرا دیا تاکہ ان کے گوشت کا کباب انکے مہمان کے واسطے رات کا کھانا ہوجائے۔اس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ایک نظیر قائم کی۔سو ہماری جماعت کے مومنین اگر ہماری آواز کو نہیں سنتے تو اس مرغی کی آواز کو سنیں۔مگر سب برابر نہیں۔کتنے مخلص ایسے ہیں کہ اپنی طاقت سے زیادہ خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔خدا اُن کو جزائے خیر دے۔؟۱ ۶؍دسمبر ۱۹۰۵ء ایک الہام فرمایا۔کل پھر الہام ہوا۔قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔واقفین زندگی کی ضرورت اس پر فرمایا کہ مدرسہ کی حالت دیکھ کر دل پارہ پارہ اور زخمی ہوگیا۔علماء کی جماعت فوت ہو رہی ہے۔مولوی عبد الکریم کی قلم ہمیشہ چلتی رہتی تھی۔مولوی برہان الدین فوت ہوگئے۔اب قائم مقام کوئی نہیں۔جو عمر رسیدہ ہیں ان کو بھی فوت شدہ سمجھئے۔دوسرا جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ تقویٰ ہو اس کی تخم ریزی نہیں۔یہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، ورنہ اچھے آدمی مفقود ہو رہے ہیں۔آریہ زندگی وقف کر رہے ہیں۔یہاں ایک طالب علم کے منہ سے بھی نہیں نکلتا۔ہزار ہا روپیہ قوم کا جو جمع ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے خرچ ہوتا ہے جو دنیا کا کیڑا بنتے ہیں۔یہ حالت تبدیل ہو کر ایسی حالت ہو کہ علماء پیدا ہوں۔علم دین میں برکت ہے۔اس سے تقویٰ حاصل ہوتی ہے۔بغیر اس کے شوخی بڑھتی ہے۔نبوی علم میں برکات ہیں۔لوگ جو روپیہ بھیجتے ہیں لنگر خانہ کے لیے یا مدرسہ کے لیے۔اس میں اگر بے جا خرچ ہوں تو گناہ کا نشانہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے تدبیر کرنے والوں کی قسم کھائی ہے فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا (النّٰـزعٰت:۶) میں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت سمجھتا ہوں جو دین کی خدمت کریں۔میرے نزدیک زبان دانی ضروری ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۸ مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ءصفحہ ۲