ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 3

(قبل دوپہر) گناہ کی تعریف تُرک نے مندرجہ ذیل دو سوال کئے اور جواب پایا۔سوال۔اگر کوئی چوری یا زنا کے ارادے سے جاوے مگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا؟ جواب۔جو خیالات وسوسہ کے رنگ میں دل میں گذرتے ہیں اور ان پر کوئی عزم اور ارادہ انسان نہیں کرتا ان پر مؤاخذہ نہیں ہے۔لیکن جب کوئی خیالِ بد دل میں گذرے اور انسان اس پر مصمم ارادہ کر لے تو اس پر مؤاخذہ ہوتا ہے اور وہ گناہ ہے۔جیسے ایک اُچکا دل میں خیال کرے کہ فلاں بچہ کو قتل کر کے اس کا زیور اتار لوں گا تو گو قانونی جرم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ہے اور سزا پائے گا۔یاد رکھو دل کا ایک فعل ہوتا ہے مگر جب تک اس پر مصمم ارادہ اور عزیمت نہ کر لے اس کا کوئی اثر نہیں۔سوال۔جو لوگ لڑائیوں میں جاتے ہیں اور وہاں قتل کرتے ہیں۔کیا وہ قتل ان کا گناہ ہے یا نہیں؟ جواب۔عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ (الاعراف:۱۸۸) میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے اچھا کیا یا بُرا کیا۔۱ ۲؍اکتوبر ۱۹۰۵ء اسلامی جنگوں کی حقیقت مسئلہ جہاد کے متعلق ذکر تھا۔اس کے متعلق جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے۔اسلامی جہاد پر یہ اعتراض تو محض فضول ہے کہ وہ لڑائیاں مذہب اور اشاعت اسلام کی خاطر تھیں اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں کفار کے ہاتھوں سے سخت تکلیف اٹھاتے رہے اور آپ کے جان نثار صحابہ نے دُکھ اٹھائے اور جانیں دیں۔بعض غریب اور بیکس ضعیف عورتوں کو شرمناک تکالیف کفار نے پہنچائیں۔یہاں تک کہ آخر آپ کو ہجرت کرنی پڑی اور ان کفار نے ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰