ملفوظات (جلد 8) — Page 114
فرق آجاتا ہے۔ایسا تو وہم کرنا بھی سخت گناہ ہے۔نہیں بلکہ وہ کاروبار جس طرح وہ چاہتا ہے بدستور چلتا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسے چلاتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے کہ وہ راستہ ہی میں فوت ہوگئے۔قوم چالیس دن تک ماتم کرتی رہی مگر خدا تعالیٰ نے وہی کام یشوع بن نون سے لیا اور پھر چھوٹے چھوٹے اور نبی آتے رہے یہاں تک کہ مسیح ابن مریم آگیا اور اس سلسلہ میں جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے شروع کیا تھا کوئی فرق نہ آیا۔پس یہ کبھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کوئی فرق آجاتا ہے۔یہ ایک دھوکہ لگتا ہے اور بُت پرستی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اگر یہ خیال کیا جاوے کہ ایک شخص کے وجود کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔میں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور طرف نظر اٹھانا کبھی پسند نہیں کرتا۔مولا بس فرمایا۔میرے ایک چچا صاحب فوت ہوگئے تھے۔عرصہ ہوا میں نے ایک مرتبہ ان کو عالَم رؤیا میں دیکھا اور ان سے اس عالَم کے حالات پوچھے کہ کس طرح انسان فوت ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عجیب نظارہ ہوتا ہے۔جب انسان کا آخری وقت قریب آتا ہے تو دو فرشتے جو سفید پوش ہوتے ہیں سامنے آتے ہیں اور وہ کہتے آتےہیں مولا بس۔مولا بس۔(فرمایا۔حقیقت میں ایسی حالت میں جب کوئی مفید وجود درمیان سے نکل جاتا ہے تو یہی لفظ ’’مولا بس‘‘ موزوں ہوتا ہے۔) اور پھر وہ قریب آکر دونو انگلیاں ناک کے آگے رکھ دیتے ہیں۔اے روح! جس راہ سے آئی تھی اسی راہ سے واپس نکل آ۔فرمایا۔طبعی امور سے ثابت ہوتا ہے کہ ناک کی راہ سے روح داخل ہوتی ہے اسی راہ سے معلوم ہوا نکلتی ہے۔توریت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ نتھنوں کے ذریعہ زندگی کی روح پھونکی گئی۔وہ عالَم عجیب اسرار کا عالَم ہے جن کو اس زندگی میں انسان پورے طور پر سمجھ بھی نہیں سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم خوش قسمتی فرمایا۔اگر دن تھوڑے بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں بسر ہوں تو غنیمت