ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 2

کی اجازت دی تھی وہ اس واسطے تھی کہ یورپ امریکہ کے لوگ جو ہم سے بہت دور ہیں اور فوٹو سے قیافہ شناسی کا علم رکھتے ہیں اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے ایک روحانی فائدہ کا موجب ہو۔کیونکہ جیسا تصویر کی حرمت ہے۔اس قسم کی حرمت عموم نہیں رکھتی بلکہ بعض اوقات مجتہد اگر دیکھے کہ کوئی فائدہ ہے اور نقصان نہیں تو وہ حسب ضرورت اس کو استعمال کر سکتا ہے۔خاص اس یورپ کی ضرورت کے واسطے اجازت دی گئی۔چنانچہ بعض خطوط یورپ امریکہ سے آئے جن میں لکھا تھا کہ تصویر کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل وہی مسیح ہے۔ایسا ہی امراض کی تشخیص کے واسطے بعض وقت تصویر سے بہت مدد مل سکتی ہے۔شریعت میں ہر ایک امر جو مَا يَنْفَعُ النَّاسَ (الرّعد:۱۸) کے نیچے آئے اس کو دیر پا رکھا جاتا ہے۔لیکن یہ جو کارڈوں پر تصویریں بنتی ہیں ان کو خریدنا نہیں چاہیے۔بُت پرستی کی جڑ تصویر ہے۔جب انسان کسی کا معتقد ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ تعظیم تصویر کی بھی کرتا ہے۔ایسی باتوں سے بچنا چاہیے اور ان سے دور رہنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ہماری جماعت پر سر نکالتے ہی آفت پڑ جائے۔میں نے اس ممانعت کو کتاب میں درج کر دیا ہے جو زیر طبع ہے۔جولوگ جماعت کے اندر ایسا کام کرتےہیں ان پر ہم سخت ناراض ہیں۔ان پر خدا ناراض ہے۔ہاں اگر کسی طریق سے کسی انسان کی روح کو فائدہ ہو تو وہ طریق مستثنیٰ ہے۔(ایک کارڈ تصویر والا دکھایا گیا) دیکھ کر فرمایا۔یہ بالکل ناجائز ہے۔ایک شخص نے اس قسم کے کارڈوں کا ایک بنڈل لا کر دکھایا کہ میں نے یہ تاجرانہ طور پر فروخت کے واسطے خرید کئے تھے اب کیا کروں؟ فرمایا۔ان کوجلا دو اور تلف کر دو۔اس میں اہانت دین اور اہانت شرع ہے۔نہ ان کو گھر میں رکھو۔اس سے کچھ فائدہ نہیں۔بلکہ اس سے آخیر میں بُت پرستی پیدا ہوتی ہے۔اس تصویر کی جگہ پر اگر تبلیغ کا کوئی فقرہ ہوتا تو خوب ہوتا۔۱