ملفوظات (جلد 8) — Page 92
ہے۔کہنے کو تو ہر ایک کہہ سکتا ہے مگر وہ کون ہے جو دکھا سکتا ہو؟ میں نے آریوں سے عیسائیوں سے پوچھا ہے کہ وہ خدا جو تم مانتے ہو اس کا کوئی ثبوت پیش کرو۔نری زبانی لاف گزاف سے بڑھ کر وہ کچھ بھی نہیں دکھا سکتے۔وہ سچا خدا جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اس سے یہ لوگ ناواقف ہیں۔اس پر اطلاع پانے کے لئے یہی ایک ذریعہ مکالمات کا تھا جس کے سبب سے اسلام دوسرے مذاہب سے ممتاز تھا مگر افسوس ان مسلمانوں نے میری مخالفت کی وجہ سے اس سے بھی انکار کردیا۔یقیناً یاد رکھو کہ گناہوں سے بچنے کی توفیق اس وقت مل سکتی ہے جب انسان پورے طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوے۔یہی بڑا مقصد انسانی زندگی کا ہے کہ گناہ کے پنجہ سے نجات پالے۔دیکھو! ایک سانپ جو خوش نما معلوم ہوتا ہے بچہ تو اس کو ہاتھ میں پکڑنے کی خواہش کرسکتا ہے اور ہاتھ بھی ڈال سکتا ہے لیکن ایک عقلمند جو جانتا ہے کہ سانپ کاٹ کھائے گا اور ہلاک کر دے گا وہ کبھی جرأت نہیں کرے گا کہ اس کی طرف لپکے بلکہ اگر معلوم ہو جاوے کہ کسی مکان میں سانپ ہے تو اس میں بھی داخل نہیں ہوگا۔ایسا ہی زہر کو جو ہلاک کرنے والی چیز سمجھتا ہے تو اس کے کھانے پر وہ دلیر نہیں ہوگا۔پس اسی طرح پر جب تک گناہ کو خطرناک زہر یقین نہ کرلے اس سے بچ نہیں سکتا۔یہ یقین معرفت کے بدوں پیدا نہیں ہو سکتا۔پھر وہ کیا بات ہے کہ انسان گناہوں پر اس قدر دلیر ہو جاتا ہے باوجودیکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور گناہ کو گناہ بھی سمجھتا ہے۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ معرفت اور بصیرت نہیں رکھتا جو گناہ سوز فطرت پیدا کرتی ہے۔اگر یہ بات پیدا نہیں ہوتی تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ معاذ اللہ اسلام اپنے اصلی مقصد سے خالی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا نہیں۔یہ مقصد اسلام ہی کامل طور پر پورا کرتا ہے اور اس کا ایک ہی ذریعہ ہے مکالمات و مخاطباتِ الٰہیہ کیونکہ اِسی سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہوتا ہے اور اِسی سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الحقیقت اللہ تعالیٰ گناہ سے بیزار ہے اور وہ سزا دیتا ہے۔گناہ ایک زہر ہے جو اوّل صغیرہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر کبیرہ ہو جاتا ہے اور انجام کار کفر تک پہنچا دیتا ہے۔