ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 91

اور جو کامل تعلیم ہے اس کے بعد اور کوئی نئی تعلیم یا شریعت نہیں آسکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب۔اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی۔جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا کرکے دکھایا اور جو کچھ قرآن شریف میں ہے اُس کو چھوڑ کر نجات نہیں مل سکتی۔جو اس کو چھوڑے گا وہ جہنم میں جاوے گا۔یہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے۔امت کے لیے مکالمہ و مخاطبہ کا دروازہ کھلا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس امت کے لیے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے۔اور یہ دروازہ گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھائی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۶،۷) اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ کے لیے جو دعا سکھائی تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے اوریہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو کمال دیا گیا وہ معرفت الٰہی ہی کا کمال تھا۔اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور مخاطبات سے ملی تھی اسی کے تم بھی خواہاں رہو۔پس اس نعمت کے لئے یہ خیال کرو کہ قرآن شریف اس دعا کی تو ہدایت کرتا ہے مگر اس کا ثمرہ کچھ بھی نہیں یا اس اُمت کے کسی فرد کو بھی یہ شرف نہیں مل سکتا۔اور قیامت تک یہ دروازہ بند ہوگیا ہے۔بتاؤ اس سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ثابت ہوگی یا کوئی خوبی ثابت ہوگی؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ اسلام کو بدنام کرتا ہے۔اور اس نے مغز شریعت کو سمجھا ہی نہیں۔اسلام کے مقاصد میں سے تو یہ امر تھا کہ انسان صرف زبان ہی سے وَحدہٗ لاشریک نہ کہے بلکہ درحقیقت سمجھ لے اور بہشت دوزخ پر خیالی ایمان نہ ہو بلکہ فی الحقیقت اسی زندگی میں وہ بہشتی کیفیات پر اطلاع پالے۔اور ان گناہوں سے جن میں وحشی انسان مبتلا ہیں نجات پالے۔یہ عظیم الشان مقصد اسلام کا تھا اور ہے۔اور یہ ایسا پاک مطہر مقصد ہے کہ کوئی دوسری قوم اس کی نظیر اپنے مذہب میں پیش نہیں کر سکتی اور نہ اس کا نمونہ دکھا سکتی