ملفوظات (جلد 8) — Page 90
پڑے۔ایک افسر گرفتار ہو جاوے تو دس اور دے دیئے جاویں۔یہ نقص ہیں جو ان تعلیموں میں ہیں۔اور یہ صحیح نہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ یہ احکام بطور قانون مختص الزمان تھے۔جب وہ زمانہ گذر گیا دوسرے لوگوں کے حسبِ حال وہ تعلیم نہ رہی۔یہودیوں کا وہ زمانہ تھا کہ وہ چار سو برس تک غلامی میں رہے اور اس غلامی کی زندگی کی وجہ سے ان میں قساوت قلبی بڑھ گئی اور وہ کینہ کش ہوگئے۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں کوئی ہوتا ہے اُس کے اخلاق بھی اسی قسم کے ہو جاتے ہیں۔سکھوں کے زمانہ میں اکثر لوگ ڈاکو ہوگئے تھے۔انگریزوں کے زمانہ میں تہذیب اور تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور ہرشخص اس طرف کوشش کررہا ہے۔غرض بنی اسرائیل نے فرعون کی ماتحتی کی تھی اسی وجہ سے اُن میں ظلم بڑھ گیا تھا۔اس لئے توریت کے زمانہ میں عدل کی ضرورت مقدم تھی کیونکہ وہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور جابرانہ عادت رکھتے تھے۔اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ دانت کے بدلے دانت کا توڑناضروری ہے۔اور یہ ہمارا فرض ہے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھایا کہ عدل تک ہی بات نہیں رہتی بلکہ احسان بھی ضروری ہے۔اس سبب سے مسیح کے ذریعہ انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔اور جب اسی پر سارا زور دیا گیا تو آخر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس تعلیم کو اصل نقطہ پر پہنچا دیا۔اور وہ یہی تعلیم تھی کہ بدی کا بدلہ اُسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کردے اور معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور اجر ہے۔عفو کی تعلیم دی ہے مگر ساتھ قید لگائی کہ اصلاح ہو بے محل عفو نقصان پہنچاتا ہے۔پس اس مقام پر غور کرنا چاہیے کہ جب توقع اصلاح کی ہو تو عفو ہی کرنا چاہیے۔جیسے دو خدمتگار ہوں ایک بڑا شریف الاصل اور فرمانبردار اور خیر خواہ ہو لیکن اتفاقاً اس سے کوئی غلطی ہو جاوے اس موقع پر اُس کو معاف کرنا ہی مناسب ہے۔اگر سزا دی جاوے تو ٹھیک نہیں۔لیکن ایک بدمعاش اور شریر ہے ہر روز نقصان کرتا ہے اور شرارتوں سے باز نہیں آتا اگر اُسے چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بھی بیباک ہو جائے گا۔اُس کو سزا ہی دینی چاہیے۔غرض اس طرح پر محل اور موقع شناسی سے کام لو۔یہ تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے