ملفوظات (جلد 7) — Page 88
نئے نئے لباس میں پیش کرتا رہے تاکہ دلوں پر اثر پڑ سکے۔در اصل یہ مسئلہ اُمّ المسائل ہے اور اسلام اور غیر مذاہب میں ایک فرقان ہے۔عیسائیوں نے بھی فرقان کا دعویٰ کیا ہے کہ انجیل نے ایمانداروں کی فلاں فلاں علامت قرار دی ہے مگر اب وہ کسی میں بھی پائی نہیں جاتیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایمان کا نام و نشان نہیں مگر اسلام میں فرقان کی سب علامات موجود ہیں۔براہین احمدیہ عہد عتیق ہے جو براہین احمدیہ کا حصہ چھپ چکا ہے اس پر ذکر چلا۔فرمایا کہ اس میں خدا کی حکمت تھی ورنہ اگر وہ چاہتا تو اسے ہم لکھتے ہی رہتے۔لیکن خدا نے اب اول حصہ کو منقطع کر کے بائبل کے عہد عتیق کی طرح الگ کر دیا ہے۔کیونکہ جو پیشگوئیاں اس میں درج ہیں وہ اب اس اثنا میں پوری ہو رہی ہیں اور جو حصہ اس کا طبع ہوگا وہ عہد جدید ہوگا جس میں سابقہ حصہ کے حوالے ہوں گے کہ خد انے یوں فرمایا تھا اور وہ اس طرح پورا ہو کر رہا۔سادگی سچائی کی دلیل ہے براہین میں ہم نے لکھا ہے کہ حضرت مسیحؑآسمان سے آویں گے۔اس پر لوگوں نے اعتراض کئے کہ تناقض ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسی براہین میں ہم نے تمام الہامات بھی درج کئے ہیں جن میں ہمارا نام مسیح رکھا گیا ہے اور پھر صرف نام ہی نہیں بلکہ جو کام مسیح نے آکر کرنا ہے اس کی نسبت بھی الہامات میری نسبت ہی درج ہیں۔پس یہ تناقض تو سچائی کی دلیل ہے کیونکہ اگر بناوٹ ہوتی تو تناقض نہ جمع کیا جاتا۔کم بختوں کی نظر انسان کی غلطی پر تو پڑتی ہے اور خدا کے کلام پر جو اس میں درج ہے نہیں پڑتی۔ایک الہام کل یا پرسوں آپ کو الہام ہوا۔اِنَّـمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔۱ بلا تاریخ