ملفوظات (جلد 7) — Page 87
۲۱؍فروری ۱۹۰۵ء (مابین مغرب و عشاء) فارغ نشینی اچھی نہیں حسب دستور قریب ایک گھنٹہ کے حضور نے مجلس فرمائی۔اوّل رسالہ زیر تصنیف کا ذکر رہا فرمایا کہ اوّل بوجہ علالت طبع کے فارغ نشینی رہی۔اب خدا نے کچھ صحت عطا فرمائی ہے تو قلم میں بھی قوت آگئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ صحت رکھے تو فارغ نشینی اچھی نہیں ہے۔بندہ اگر خدمت ہی کرتا رہے تو خوب ہے۔دہریت کو نبی کا وجود ہی جلا سکتا ہے فرمایا کہ دہریہ پن کو اگر کوئی شے جلا سکتی ہے تو وہ صرف انبیاء کا وجود ہے ورنہ عقلی دلائل سے وہاں کچھ نہیں بنتا۔کیونکہ عقل کی حد سے تو پیشتر ہی گذر کر وہ دہریہ بنتا ہے۔پھر عقل کی پیش اس کے آگے کب چلتی ہے۔خدا نمائی کی ضرورت فرمایا کہ آج کل خدا نمائی کی بڑی ضرورت ہے۔دراصل اگر دیکھا جاوے تو خدا کی ہستی سے انکار ہو رہا ہے۔بہت لوگوں کو یہ خیال ہے کہ کیا ہم خدا کی ہستی کے قائل نہیں ہیں۔وہ اپنے زُعم میں تو سمجھتے ہیں کہ خدا کو وہ مانتےہیں لیکن ذرا غور سے ایک قدم رکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ وہ در حقیقت قائل نہیں ہیں کیونکہ اور اشیاء کے وجود کے قائل ہونے سے جو حرکات اور افعال ان سے صادر ہوتے ہیں وہ خدا کے وجود کے قائل ہونے سے کیوں صادر نہیں ہوتے۔مثلاً جب کہ وہ سمّ الفار سے واقف ہے کہ اس کے کھانے سے آدمی مَر جاتا ہے تو وہ اس کے نزدیک نہیں جاتا اور نہیں کھاتا کیونکہ اسے یقین ہے کہ میں اگر کھا لوں گا تو مَر جاؤں گا۔پس اگر خدا کی ہستی پر بھی یقین ہوتا تو وہ اسے مالک، خالق اور قادر جان کر نافرمانی کیوں کرتا؟ پس ظاہر ہے کہ بڑا ضروری مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ہے اور قابل قدر وہی مذہب ہو سکتا ہے جو کہ اسے