ملفوظات (جلد 7) — Page 83
ہے۔قول سے مراد ہماری وحی الٰہی ہے اور فعل سے نصرت اور تائیداتِ الٰہیہ۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فعل کو دکھلاؤ تو یاد رہے کہ اس کا جلدی ظاہر کرنا ہمارا اپنا اختیار نہیں ہے اور کسی نبی کے اختیار میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ وہ آیات اللہ کو جب چاہے دکھا دیوے۔ہاں خلق اللہ کی خاطر ان کو اس قسم کے اضطراب ضرور ہوتے ہیں اور وہ خواہاں ہوتے ہیں مگر آخر آیات خدا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنے مصالحہ سے ان کو کھولتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بڑا اضطراب تھا تو خدا تعالیٰ نے وحی کی کہ تو آسمان پر زینہ لگا کر جا اور ان کو نشان لادے۔اگر ہم کذّاب اور دجّال ہیں تو صبر کرو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ(المؤمن:۲۹) جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یہ کبھی اتفاق نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کاذب کی تائید کر کے سچوں کو شکست دی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مقابلہ پر الہام کے مدعی موجود تھے اور وہ آپ کو جھوٹا خیال کرتے تھے۔مسیلمہ کذّاب بھی انہی میں تھا۔اگر قول پر مدار ہوتا تو اشتباہ رہتا مگر آخر فعلِ الٰہی نے فیصلہ کر دیا۔دیکھ لو کہ اب کس کے دین کا نقارہ بج رہا ہے۔کس کا نام روشن ہے جو خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس کو برکت دی جاتی ہے وہ بڑھتا ہے وہ پھلتا اور پھولتا ہے اور اس کے دشمنوں پر اسے فتح پر فتح ملتی ہے۔لیکن جو خدا کی طرف سے نہیں ہوتا وہ مثل جھاگ کے ہوتا ہے جو کہ بہت جلد نابود ہو جاتا ہے۔خدا کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔جس کا مدار تقویٰ پر ہوگا اور جس کے خدا کے ساتھ پاک تعلقات ہوں گے اسی کی نصرت ہوگی۔یہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ہے کہ اس وقت اور ملہم ہمیں جھوٹا قرار دیتے ہیں۔بلکہ عیسیٰ علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو کہ ملہم تھے اور وہ ان نبیوں کی تکذیب کرتے تھے تو اس وقت کے داناؤں نے یہی فیصلہ دیا تھا کہ جو سچا ہوگا اس کا کاروبار بابرکت ہوگا۔پس اب بجز اس بات کے اور فیصلہ نہیں نظر آتا کہ اگر قول میں پیچیدگی ہے تو فعل کو دیکھو، لیکن میں پھر کہتا ہوںکہ مجھ سے یہ درخواست کہ فعل ظاہر ہو عبث ہے میں تو ایک عاجز بندہ ہوں یہ خدا کا کام ہے کہ جو فعل وہ چاہے ظاہر کر دے۔میں کیا ہوں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم