ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 82

اس وقت خود اسلام میں کئی فرقے موجود ہیں جو کہ ایک دوسرے کی تردید کر رہے ہیں۔پھر دوسرے مذاہب کے حملے الگ ہیں۔ایک کتاب ترکِ اسلام لکھی گئی تھی اور اب ایک تہذیب الاسلام لکھی گئی ہے جس میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت فحش اور شرمناک حملے کئے گئے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کل مذاہب اور فرقوں میں ایک جنگ چل رہی ہے اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے کہ ہم حق پر ہیں۔پس ایسی حالت میں فیصلہ کرنا ایک آسان امر نہیں ہے۔یا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی کو فہم دے اور رشد عطا کرے اور یا خود انسان جلدی نہ کرے اور صبر اور دعا سے کام لے تاکہ وقت پر حقیقت کھل جاوے کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے کیونکہ جھوٹے مذہب کے ساتھ اس کی نصرت اور تائید کبھی شامل نہیں ہوسکتی۔اگر جھوٹے مذہب کی بھی وہی خاطر خدا کو ہو جو کہ سچے مذہب کی ہوتی ہے تو پھر سچ اور جھوٹ کا امتیاز کرنا محال ہوجائے گا۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے کہ قرآن شریف میں درج ہے یہ جوا ب دیا کہ اِعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّيْ عَامِلٌ(الانعام:۱۳۶) کہ اگر تم لوگوں پر میرا سچا ہونا مشتبہ ہے تو تم بھی اپنی اپنی جگہ عمل کرو میں بھی کرتا ہوں انجام پر دیکھ لینا کہ خدا کی تائید اور نصرت کس کے شامل حال ہے جو امر خدا کی طرف سے ہوگا وہ بہر حال غالب ہو کر رہے گا وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ (یوسف:۲۲)۔ان مختلف الہامات کے فیصلہ کے لیے بھی در اصل یہی معیار ہے کیونکہ ایک طرف تو اہل اسلام الہام کے مدعی ہیں دوسری طرف سکھ وغیرہ بھی۔پس اگر یہ سب الہامات خدا کی طرف سے سمجھے جائیں تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا بھی بہت سے ہیں۔کیونکہ اگر وہ سب ایک ہی کا کلام ہے تو آپس میں ایک دوسرے کی ضد کیوں ہیں کہ وہی خدا ایک کو کہتاہے کہ فلاں شخص سچا ہے اور دوسرے کو کہتا ہے کہ جھوٹا ہے۔پس اس میں فیصلہ کی جو آسان ترین راہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک قول ہوتا ہے اور ایک فعل۔اگر قول میں اختلاف ہے تو اب فعل کی انتظار چاہیے۔قول پر اگر فیصلہ کا مدار رکھا جاوے تو اس کی نظیر دوسری جگہ نکل آتی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ تم کذاب ہوا۔لیکن فعل کو کہاں چھپائیں گے۔اس کی مثال تو ایک سورج کی ہے جس کی رؤیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا