ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 72

وہی ہے جو تلخیوںکا شربت پی لیوے۔لوگ دنیا کی فکر میں درد برداشت کرتے ہیں حتی کہ بعض اسی میں ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ایک کانٹے کی درد بھی برداشت کرنا پسند نہیں کرتے جب تک اس کی طرف سے صدق اور صبر اور وفاداری کے آثار ظاہر نہ ہوں تو ادھر سے رحمت کے آثار کیسے ظاہر ہوں۔صدق دکھلاؤ ابراہیم علیہ السلام نے صدق دکھلایا تو ان کو ابوالانبیاء بنا دیا۔میرے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ دن بہت سخت ہیں اور کسی نے اب تک نہیں سمجھا تو آئندہ سمجھ لیوے۔مجھے الہام ہوا تھا عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَ مَقَامُھَا۔یہ ایک خطرناک کلمہ ہے جس میں طاعون کی خبر دی گئی ہے کہ انسان کے لیے کوئی مفر اور کوئی جائے پناہ نہ رہے گی۔اس لیے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں کہ اگر کوئی سچی تبدیلی نہ کرے گا تو وہ ہرگز اس لائق نہ ہوگا کہ مجھ کو دعا کے لیے لکھے۔جو لوگ خدا کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم پر چلیں گے وہی محفوظ رہیں گے۔خدا کا وعدہ ایسے ہی لوگوں کی حفاظت کا ہے جو سچی تبدیلی اپنے اندر کرتے ہیں۔مطلق بیعت انسان کے کیا کام آسکتی ہے؟ پورا نسخہ جب تک نہ پیے تو مریض کو فائدہ نہیں ہوا کرتا۔اس لیے پوری تبدیلی کرنی چاہیے۔جہاں تک ہوسکے دعا کرو اور اللہ تعالیٰ سے کہو کہ وہ تم کو ہر ایک قسم کی توفیق عطا کرے۔۱ ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۴ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کی علالت طبع کا حال استفسار فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر دودھ ہضم ہونے لگ جاوے تو بخار اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۲ یکم جنوری ۱۹۰۵ء