ملفوظات (جلد 7) — Page 71
مشتعل ہو کر ایک جوش طبیعت میں پیدا کرتا ہے جس سے انسان حد اعتدال سےگذر جاتا ہے۔لیکن جیسے پانی آگ سے گرم ہو کر آگ کی مثال تو ہوجاتا ہے اور جو کام آگ سے لیتے ہیں وہ اس سے بھی لے لیتے ہیں مگر جب اسی پانی کو آگ کے اوپر گرایا جاوے تو وہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے کیونکہ ذاتی صفت اس کی آگ کو بجھانا ہے۔وہ وہی رہے گی۔ایسے ہی اگر انسان کی روح نفسِ امّارہ کی آگ سے خواہ کتنی ہی گرم کیوں نہ ہو مگر جب وہ نفس سے مقابلہ کرے گی اور اس کے اوپر گرے گی تو اسے مغلوب کر کے چھوڑے گی۔بات صرف اتنی ہے کہ خدا کو ہر ایک بات پر قادرِ مطلق جانا جاوے اور کسی قسم کی بد ظنی اس پر نہ کی جاوے۔جو بد ظنی کرتا ہے وہی کافر ہوتاہے۔مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو غایت درجہ قادر جانے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت نیکیاں کرنے سے انسان ولی بنتا ہے۔یہ نادانی ہے۔مومن کو تو خدا نے اول ہی ولی بنایا ہے جیسے کہ فرمایا ہے اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (البقرۃ:۲۵۸) اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ہزاروں عجائبات ہیں اور انہی پر کھلتے ہیں جو دل کے دروازہ کھول کر رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بخیل نہیں ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مکان کا دروازہ خود ہی نہیں کھولتا تو پھر روشنی کیسے اندر آوے۔پس جو شخص خدا کی طرف رجوع کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف رجوع کرے گا۔ہاں یہ ضروری ہے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ اپنی طرف سے کوتاہی نہ کرے۔پھر جب اس کی کوشش اس کے اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچے گی تو وہ خدا کے نور کو دیکھ لے گا۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو حق کوشش کا اس کے ذمہ ہے اسے بجا لائے۔یہ نہ کرے کہ اگر پانی ۲۰ ہاتھ نیچے کھودنے سے نکلتا ہے تو وہ صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت ہار دے۔ہر ایک کام میں کامیابی کی یہی جڑ ہے کہ ہمت نہ ہار دے۔پھر اس امت کے لیے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر کوئی پورے طور سے دعا و تزکیہ نفس سے کام لے گا سب وعدے قرآن شریف کے اس کے ساتھ پورے ہو کر رہیں گے۔ہاں جو خلاف کرے گا وہ محروم رہے گا کیونکہ اس کی ذات غیور ہے۔اس نے اپنی طرف آنے کی راہ ضرور رکھی ہے لیکن اس کے دروازے تنگ بنائے ہیں۔پہنچتا