ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 70

مہلت اس لیے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے حلم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھاوے تو اسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجا لاتا ہے مگر دل کا خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی؟ اس لیے دل کا رجوع تام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔اب دیکھو کہ ہزاروں مساجد ہیں۔مگر سوائے اس کے کہ اس میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہودیوں کی حالت تھی کہ رسم اور عادت کے طور پر عبادت کرتے تھے اور دل کا حقیقی میلان جو کہ عبادت کی روح ہے ہرگز نہ تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔پس اس وقت بھی جو لوگ پاکیزگی قلب کی فکر نہیں کرتے تو اگر رسم و عادت کے طور پر وہ سینکڑوں ٹکریں مارتے رہیں ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اعمال کے باغ کی سر سبزی پاکیزگی قلب سے ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(الشّمس:۱۰،۱۱) کہ وہی بامراد ہوگا جو کہ اپنے قلب کو پاکیزہ کرتا ہے اور جو اسے پاک نہ کرے گا بلکہ خاک میں ملاوے گا یعنی سفلی خواہشات کا اسے مخزن بنا رکھے گا وہ نامراد رہے گا۔اس بات سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ خدا کی طرف آنے کے لیے ہزارہا روکیں ہیں۔اگر یہ نہ ہوتیں تو آج صفحہ دنیا پر نہ کوئی ہندو ہوتا نہ عیسائی، سب کے سب مسلمان نظر آتے۔لیکن ان روکوںکو دور کرنا بھی خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔وہی توفیق عطا کرے تو انسان نیک و بد میں تمیز کر سکتا ہے۔اس لیے آخرکار بات پھر اسی پر آٹھہرتی ہے کہ انسان اسی کی طرف رجوع کرے تاکہ قوت اور طاقت دیوے۔کوشش کی برکت دنیا میں جس قدر مشورے نفس پرستی اور شہوت پرستی وغیرہ کے ہوتے ہیں ان سب کا مأخذ نفسِ امّارہ ہی ہے لیکن اگر انسان کوشش کرے تو اسی امّارہ سے پھر وہ لوّامہ بن جاتا ہے۔کیونکہ کوشش میں ایک برکت ہوتی ہے اور اس سے بھی بہت کچھ تغیرات ہوجاتے ہیں۔پہلوانوں کو دیکھو کہ وہ ورزش اور محنت سے بدن کو کیا کچھ بنا لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ محنت اور کوشش سے نفس کی اصلاح نہ ہو سکے۔نفسِ امّارہ کی مثال آگ کی ہے جو کہ