ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 69

حاصل کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔دین ہو یا دنیا ہر ایک امر میں اسے خدا کی ذات کی بڑی ضرورت ہے اور ہر وقت اس کی طرف احتیاج لگی ہوئی ہے جو اس کا منکر ہے سخت غلطی پر ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھو یا نہ۔وہ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ(الفرقان:۷۸) اگر اس کی طرف رجوع رکھو گے تو تمہارا ہی اس میں فائدہ ہوگا۔انسان جس قدر اپنے وجود کو مفید اور کار آمد ثابت کرے گا اسی قدر اس کے انعامات کو حاصل کرے گا۔دیکھو! کوئی بیل کسی زمیندار کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو مگرجب وہ اس کے کسی کام بھی نہ آوے گا نہ گاڑی میں جتے گا نہ زراعت کرے گا نہ کنوئیں میں لگے گا تو آخر سوائے ذبح کے اور کسی کام نہ آوے گا۔ایک نہ ایک دن مالک اسے قصاب کے حوالہ کر دے گا۔ایسےہی جو انسان خدا کی راہ میں مفید ثابت نہ ہوگا تو خدا اس کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔ایک پھل اور سایہ دار درخت کی طرح اپنے وجود کو بنانا چاہیے تاکہ مالک بھی خبر گیری کرتا رہے۔لیکن اگر اس درخت کی مانند ہوگا کہ جو نہ پھل لاتا ہے اور نہ پتے رکھتا ہے کہ لوگ سایہ میں آ بیٹھیں تو سوائے اس کے کہ کاٹا جاوے اور آگ میں ڈالا جاوے اور کس کام آ سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذّٰریٰت:۵۷) جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خرید لوں۔فلاں مکان بنا لوں۔فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے۔تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کی تڑپ انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پاکر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ