ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 68

سے بُعد اختیار کیا ان کا کیا حال ہوا۔ان لمبی آرزوؤں نے انسان کو ہلاک کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (التکاثر:۲،۳) کہ اے لوگو! جو تم خدا سے غافل ہو دنیا طلبی نےتمہیں غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو مگر غفلت سے باز نہیں آتے۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (التکاثر:۴) مگر اس غلطی کا تم کو عنقریب علم ہوجائے گا۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (التکاثر:۵) پھر تم کو اطلاع دی جاتی ہے کہ عنقریب تم کو علم ہو جاوے گا کہ جن خواہشات کے پیچھے تم پڑے ہو وہ ہرگز تمہارے کام نہ آویں گی اور حسرت کا موجب ہوں گی۔كَلَّالَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ(التکاثر:۶) اگر تم کو یقینی علم حاصل ہوجاوے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاری زندگی جہنمی زندگی ہے اور جن خیالات میں تم رات دن لگے ہوئے ہو وہ بالکل ناکارہ ہیں۔میں ہرچند کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح یہ باتیں لوگوں کے دل نشین ہو جاویں مگر آخرکار یہی کہنا پڑتا ہے کہ اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ خود ایک واعظ دل میں نہ پیداکرے تب تک فائدہ نہیں ہوتا۔جب انسان کی سعادت اور ہدایت کے دن آتے ہیں تو دل کے اندر ایک واعظ خود پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس وقت اس کے دل کو ایسے کان مل جاتے ہیں کہ وہ دوسرے کی بات کو سنتا ہے۔راتوں کو اور دنوں کو خوب سوچ کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انسان بہت ہی بے بنیاد شے ہے اور اس کے وجود کی کوئی کَل بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ایک آنکھ ہی پر نظر کرو کہ کس قدر باریک عضو ہے اگر ایک ذرا پتھر آلگے تو فوراً نابینا ہو جاوے۔پھر اگر یہ خدا کی نعمت نہیں ہے تو کیا ہے؟ کیا کسی نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ خدا اسے ضرور بینا ہی رکھے گا؟ اور اسی پر سب قویٰ کا قیاس کرو کہ اگر آج کسی میں فرق آجاوے تو انسان کی کیا پیش چل سکتی ہے۔غرضیکہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا گذارا تو ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کا دھیان ہر وقت اس کی طرف لگا نہ رہے۔اگر کوئی ان باتوں پر غور نہیں کرتا اور ایک دینی نظر سے ان کو وقعت نہیں دیتا تو وہ اپنے دنیوی معاملات پر ہی نظر ڈال کر دیکھے کہ کیا خدا کی تائید اور فضل کے سوا کوئی کام اس کا چل سکتا ہے؟ اور کوئی منفعت دنیا کی وہ