ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 67

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انقطاع دنیا اور حصول قرب الی اللہ کے متعلق مضمون تھا اور وہ تقریر یہ ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنا نصب العین بنائیں انسان کو چاہیے کہ حسنات کا پلڑا بھاری رکھے۔مگر جہاں تک دیکھا جاتا ہے اس کی مصروفیت اس قدر دنیا میں ہےکہ یہ پلڑا بھاری ہوتا نظر نہیں آتا۔رات دن اسی فکر میں ہے کہ وہ کام دنیا کا ہو جاوے۔فلانی زمین مل جاوے۔فلاں مکان بن جاوے۔حالانکہ اسے چاہیے کہ افکار میں بھی دین کا پلڑا دنیا کے پلڑے سے بھاری رکھے۔اگر کوئی شخص رات دن نماز روزہ میں مصروف ہے تو یہ بھی اس کے کام ہرگز نہیں آسکتا۔جب تک کہ خدا کو اس نے مقدم نہیں رکھا ہوا۔ہر بات اور فعل میں اللہ تعالیٰ کو نصب العین بنانا چاہیے ورنہ خدا کی قبولیت کے لائق ہرگز نہ ٹھہرے گا۔دنیا کا ایک بت ہوتا ہے جو کہ ہر وقت انسان کی بغل میں ہوتا ہے۔اگر وہ مقابلہ اور موازنہ کرکے دیکھے گا تو اسے معلوم ہوگا کہ طرح طرح کی نمائش اس نے دنیا کے لیے ہی بنا رکھی ہے اور دین کا پہلو بہت کمزور ہے۔حالانکہ عمر کا اعتبار نہیں اور نہ علم ہے کہ اس نے اس پل کے بعد زندہ بھی رہنا ہے کہ نہیں۔شیخ سعدیؒ نے کیا عمدہ فرمایا ہے۔ع مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار اس وقت جس قدر لوگ کھڑے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ ایک سال تک ان میں سے میں ضرور زندہ رہوں گا لیکن اگر خدا کی طرف سے علم ہو جاوے کہ اب زندگی ختم ہے تو ابھی سب ارادے باطل ہو جاتے ہیں۔پس خوب یاد رکھو کہ مومن کو دنیا کا بندہ نہ ہونا چاہیے۔ہمیشہ اس امر میں کوشاں رہنا چاہیے کہ کوئی بھلائی اس کے ہاتھ سے ہوجاوے۔خدا تعالیٰ بڑا رحیم کریم ہے اور اس کا ہرگز یہ منشا نہیں ہے کہ تم دکھ پاؤ۔لیکن خوب یاد رکھو کہ جو اس سے عمداً دوری اختیار کرتا ہے اس پر اس کا قہر ضرور ہوتا ہے۔عادت اللہ اسی طرح سے چلی آتی ہے۔نوحؑکے زمانہ کو دیکھو، لوطؑکے زمانہ کو دیکھو، موسٰی کے زمانہ کو دیکھو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو دیکھو کہ اس وقت جن لوگوں نے عمداً خدا