ملفوظات (جلد 7) — Page 66
سکتا۔ہم خود دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے کوئی دکھ اور تکلیف جو وہ پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو اب بھی تیار ہیں۔جماعت کو خاص نصیحت پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے وَ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا(الدھر:۹) وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا ہے۔میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔مجھے صحت ہو جاوے تو میں اخلاقی تعلیم پر ایک مستقل رسالہ لکھوں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ میرا منشا ہے وہ ظاہر ہو جاوے اور وہ میری جماعت کے لیے ایک کامل تعلیم ہو اور اِبْتِغَاءُ مَرْضَاتِ اللہِ کی راہیں اس میں دکھائی جائیں۔مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں آئے دن یہ دیکھتا اور سنتا ہوں کہ کسی سے یہ سرزد ہوا اور کسی سے وہ۔میری طبیعت ان باتوں سے خوش نہیں ہوتی۔میں جماعت کو ابھی اس بچہ کی طرح پاتا ہوں جو دو قدم اٹھاتا ہے تو چار قدم گرتا ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جماعت کو کامل کر دے گا۔اس لیے تم بھی کوشش، تدبیر، مجاہدہ اوردعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بنتا ہی نہیں۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو وہ ساری راہیں کھول دیتا ہے۔۱ ۳۰؍دسمبر ۱۹۰۴ء تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو کہ آپ نے بعد از نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں فرمائی چونکہ خاکسار ایڈیٹر کچھ دیر سے پہنچا تھا اس لیے جس قدر ضبط ہو سکا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔سلسلہ تقریر سے