ملفوظات (جلد 7) — Page 65
کیوں کی تھیں؟ وہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دکھ اٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر۔تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اٹھاتے رہے۔مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لیے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے اور ایک حق پرست قوم کے لیے راہ کھل جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے لیے بدی نہیں چاہی۔آپ تو رحم مجسّم تھے۔اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلّط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ ان تمام ائمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے رہتے تھے قتل کروا دیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رو سے آپ کا پلہ بالکل پاک تھا۔مگر باوجود اس کے کہ عرف عام کے لحاظ سے اور عقل و انصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کروا دیتے مگر نہیں، آپؐنے سب کو چھوڑ دیا۔آج کل جو لوگ غدر کرتے ہیں اور باغی ہوتے ہیں انہیں کون پناہ دے سکتا ہے۔جب ہندوستان میں غدر ہوگیا تھا اور اس کے بعد انگریزوں نے تسلّط عام حاصل کر لیا تو تمام شریر باغی ہلاک کر دیئے گئے اور ان کی یہ سزا بالکل انصاف پر مبنی تھی۔باغی کے لیے کسی قانون میں رہائی نہیں۔لیکن یہ آپؐہی کا حوصلہ تھا کہ اس دن آپ نے فرمایا کہ جاؤ تم سب کو بخش دیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نوع انسان سے بہت بڑی ہمدردی تھی ایسی ہمدردی کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔اس کے بعد بھی اگر کہا جاوے کہ اسلام دوسروں سے ہمدردی کی تعلیم نہیں دیتا تو اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوگا؟ یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔جس جس قدر انسان متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایذا کو پسند نہیں کرتا۔مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہو