ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 57

ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔وہ اس نور اور روشنی کو جو انوارِ معرفت سے اسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اسے منور کر دیتی ہے لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے۔یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس قدر وہ دیوار صاف ہوگی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہوگی، لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت اس روشنی کے لیے کوئی نہیں بلکہ اس کا فخر آفتاب کو ہے اور ایسا ہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تو اس روشنی کو اٹھا لے۔اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار ان پر پڑتے ہیں اور ان کو روشن کر دیتے ہیں اسی لیے وہ ذاتی طور پر کوئی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اعمال سے داخل جنت ہوں گے تو یہی فرمایا کہ ہرگز نہیں۔۱ خدا تعالیٰ کے فضل سے۔انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں۔ہاں ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میںہوتے ہیں جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔۲ یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبولِ حق اور فیضانِ الوہیت کی راہ میں روک ہوجاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا۔اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کےمواد ردیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی، کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو