ملفوظات (جلد 7) — Page 56
طرح عیب چینی کر کے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں جن کا دور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جو متعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے۔اور جب تک ان بدیوں سے نجات حاصل نہ کر لے تزکیہ نفس کامل طور پر نہیںہوتا۔اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تزکیہ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتےہیںکہ ان اخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے، لیکن جب کبھی موقع آ پڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے اور پھر وہ گند ان سے ظاہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور وہ تزکیہ نفس جو کامل کرتا ہے میسر نہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اس فضل کے جذب کرنے کے لیے بھی وہی تین پہلو ہیں۔اوّل مجاہدہ اور تدبیر۔دوم دعا۔سوم صحبت صادقین۔یہ فضل الٰہی انبیاء علیہم السلام پر بدرجہ کمال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اوّل ان کا تزکیہ اخلاقی کامل طور پر خود کر دیتا ہے۔ان میں بد اخلاقیوں اور رذائل کی آلائش رہ ہی نہیں جاتی۔ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سلطنت پاکر بھی وہ فقیر ہی رہتے ہیں اور کسی قسم کا کبر ان کے پاس نہیں آتا۔خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر تزکیہ نفس حاصل نہیں ہوتا درحقیقت یہ گند جو نفس کے جذبات کا ہے اور بد اخلاقی، کبر، ریا وغیرہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔اور یہ موادِ ردیہ جل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ ان کو نہ جلائے۔جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا