ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 55

مواد کو دبا دیتا ہے اسی لیے اسے کافور کہتے ہیں۔اسی طرح پر یہ کافوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے اور وہ مواد ردیہ جو اٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں ان کو اٹھنے نہیں دیتا بلکہ بےاثر کر دیتا ہے۔دوسرا شربت شربت زنجبیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کےلیے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) تو اصل مقصد اور غرض ہے۔یہ گویا زنجبیلی شربت اور غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتـحۃ:۷) کافوری شربت ہے۔باریک اور مخفی بدیوں سے بچنے کی تلقین اب ایک اور مشکل ہے کہ انسان موٹی موٹی بدیوںکو تو آسانی سے چھوڑ بھی دیتا ہے لیکن بعض بدیاں ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑنا اسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گو سخت تپ ہے مگر اس کا علاج کھلا کھلا ہو سکتا ہے لیکن تپ دق جو اندر ہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذرا ذرا سی بات اور اختلافِ رائے پر دلوں میں بُغض، کینہ، حسد، ریا، تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہوگیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی۔اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے دوسرے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لیے حریص ہوتا ہے اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے۔کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے رنگ میں اسے ظاہر کرتے ہیں اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔غرض کسی نہ کسی