ملفوظات (جلد 7) — Page 53
سے زیادہ اسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ترکِ شر کیا ہے خواہ وہ عدمِ قدرت ہی کی وجہ سے ہو۔قرآن شریف صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترکِ شر کر کے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہوگیا، بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاق فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے۔اور اس سے ایسے اعمال و افعال سر زد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور ان کا نتیجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔میں اس بات کو بار بار کہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اپنی ترقی اور کمال روحانی کی یہی انتہا نہ سمجھ لے کہ میں نے ترکِ بدی کی ہے۔صرف ترکِ بدی نیکی کے کامل مفہوم اور منشا کو اپنے اندر نہیں رکھتی۔بار بار ایسا تصور کرنا کہ میں نے خون نہیں کیا خوبی کی بات نہیں کیونکہ خون کرنا ہر ایک شخص کا کام نہیں ہے۔یا یہ کہنا کہ زنا نہیں کیا کیونکہ زنا کرنا تو کنجروں کا کام ہے نہ کہ کسی شریف انسان کا۔ایسی بدیوں سے پرہیز زیادہ سے زیادہ انسان کو بد معاشوں کے طبقے سے خارج کر دے گا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۱۔مگر وہ جماعت (جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمال صالحہ کیے کہ خدا تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہوگئے) صرف ترکِ بدی ہی سے نہ بنی تھی۔انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہیچ سمجھا۔خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام وآسائش کو ترک کر دیا تب جاکر وہ ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آگئی رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ(البینۃ:۹)۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ کسب خیر تو بڑی بات ہے اور وہی اصل مقصد ہے، لیکن وہ تو ترک بدی میں بھی سست نظر آتے ہیں اور ان کاموں کا تو ذکر ہی کیا ہے جو صلحاء کے کام ہیں۔پس تمہیں چاہیے کہ تم ایک ہی بات اپنے لیے کافی نہ سمجھ لو۔ہاں اول بدیوں سے پرہیز کرو