ملفوظات (جلد 7) — Page 52
کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہو جائے گی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاوے گا۔تیسرا ذریعہ صحبت صادقین تیسرا پہلو۱ جو قرآن سے ثابت ہے وہ صحبت صادقین ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) یعنی صادقوںکے ساتھ رہو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ان کا نور صدق و استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تین ذریعہ ہیں جو ایمان کو شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور اسے طاقت دیتے ہیں اور جب تک ان ذرائع سے انسان فائدہ نہیں اٹھاتا اس وقت تک اندیشہ رہتا ہے کہ شیطان اس پر حملہ کر کے اس کے متاعِ ایمان کو چھین نہ لے جاوے۔اسی لیے بہت بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم کو رکھا جاوے اور ہر طرح سے شیطانی حملوں سے احتیاط کی جاوے۔جو شخص ان تینوں ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہیں کرتا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی اتفاقی حملے سے نقصان اٹھاوے۔دفع شر کے بعد کسب خیر اصل مقصد ہے لیکن یہ بات یاد رکھو کہ کتابوں میں جب لکھا جاتا ہے کہ بدیاں چھوڑ دو اورنیکیاں کرو تو بعض آدمی اتنا ہی سمجھ لیتے ہیں کہ نیکیوں کا کمال اسی قدر ہے کہ جو مشہور بدیاں ہیں مثلاً چوری، زنا، غیبت، بد دیانتی، بد نظری وغیرہ۔موٹی موٹی بدیوں سے بچتے ہیں تو اپنے آپ کو سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے نیکی کے تمام مدارج حاصل کر لیے ہیں اور ہم بھی کچھ ہوگئے ہیں۔حالانکہ اگر غور کر کے دیکھا جاوے تو یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چوری نہیں کرتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو ڈاکے نہیں مارتے یا خون نہیں کرتے یا بد نظری یا بد کاری کی بد عادتوں میں مبتلا نہیں ہیں۔زیادہ