ملفوظات (جلد 7) — Page 406
جلد ہفتم ہندو یا کسی اور مذہب کا آدمی جو دعا کے واسطے درخواست کرے ہم سب کے واسطے دعا کرتے ہیں اپنے دوستوں کی صحت یابی کے لیے کثرت سے دعا ئیں فرمانا ۲۳۰ ۲۴۸ ،۱۱۰ ، ۷۴ حضرت مولوی عبدالکریم سے فرمایا میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی ہے جس کی حد نہیں ۲۲۵ ،۲۲۴ ،۱۱ اپنے مرید شیخ رحمت اللہ صاحب کے لیے پانچ وقت دعا فر مانا ۲۴۸ ۳۱۵ ۸،۶ لد ۳۸ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو اکرام ضيف اپنے خدام کی ضروریات کا خیال حضرت مولانانور الدین کی بیمار پرسی اور غذا کے انتظام کے لیے تاکید پابندی شریعت کا اہتمام ۵۰ ۳۱۶ ۸۷ ۱۶۵ ۳۳۶ ۱۱۰ ملفوظات حضرت مسیح موعود جو خدمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے ۔۔۔ اس کے سوا ہمیں اور کسی کام کے لیے نہ فرصت ہے نہ ضرورت سیرت طیبہ فارغ نشینی سے نفرت میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ جب سے مجھے ہوش ہے میں دنیا کے ہم وغم میں کبھی مبتلا نہیں ہوا ساری دنیا مجھ کو چھوڑتی ہے تو چھوڑ دے مجھے اس کی پروانہیں اس لیے کہ خدا میرے ساتھ ہے ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے شدید زلزلہ کے آنے پر حضور پر خشیت الہی کا اثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات کے دفاع میں الزامی جواب دینا الله لده با وجود بیماری کے نماز با جماعت میں شمولیت اصل غرض تو یہ ہے کہ میں مقام رضا حاصل کرنا چاہتا ہوں دعا کی تاثیرات کے ذاتی تجربات قبولیت دعا کی راحت خدا کی ہستی پر ایمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر ہونے کے لیے دعا بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا نماز اشراق کی ادائیگی ۱۱۴ 1 ۳۵ ۲۹۶ ۱۸۹ ۱۴۶ دوسروں کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا سر ایک مرید کو ا پنا سجدہ کرنے سے روکنا آپ کی سادگی آپ کی سچائی کی دلیل ہے 44 ۸۸ ایک شخص کے گالیاں دینے پر فرمایا اب ایسے ۱۱۸ لوگوں سے اعراض ہی اچھا ہے ۱۳۱ بدگمانی کرنے والے احمدیوں سے چندہ نہ کی تھی وہی دعا آج ہمارے دل سے بھی نکلتی ہے ۱۳۷ لینے کے بارہ میں حضور کا اہم خط الد میں تو سب کے لیے دعا کرتا ہوں ۱۲۰ اپنی جماعت میں صحابہ کا نمونہ دیکھنے کی خواہش ۲۹۴