ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 351

بروز کا مسئلہ مذہب کبھی سر سبز نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی روحانیت کا بروز نہ ہو۔اس لیے ضروری تھاکہ اسلام کے کامیاب اور بامراد ہونے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے اور مدینہ طیبہ میں قبر کے اندر رکھے گئے۔مگر میں یہ ماننے کو طیار نہیں ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہی ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو قبر میں رکھے گئے وہ ایک پاک دانہ کی طرح رکھے گئے ہیں جس کو بہت سے خوشے لگے ہیں جو اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ(ابراہیم:۲۵) کا سچا مصداق ہیں اگر کوئی شخص اس امر کو نہیں مانتا تو وہ گویا تسلیم کرتا ہے کہ معاذ اللہ آپؐضائع ہوگئے۔حالانکہ آپ کے برکات اور فیوض کا تو یہاں تک اثر ہوا کہ مدینہ طیبہ کا نام یثرب بھی نہیں رہنے دیا کیونکہ یثرب ہلاک ہونے کو کہتے ہیں۔میں یقیناً کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس حقیقت کو کھول دیا ہے کہ آپ مدینہ کی خاک میں اس دانے کی طرح تھے جس سے ہزارہا دانے اُگیں۔یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں وہ تعصب اور ضد میں اندھے ہو کر آپ کو اس دانہ سے مشابہ سمجھتے ہیں جو معاذ اللہ کِرم خوردہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ نبی کے اخلاق، عادات اور توجہ کسی اور کو بھی دیئے جاتےہیں جو اس کی اتباع میں اس کی محبت میں کامل طور پر فنا ہوگیا ہو۔اور ظلی طور پر اس کے کمالات اور خوبیوں کو اپنے اندر جذب کرتا ہو۔اس صورت میں اس نبی کا حلیہ گو اس کو دیا جاتا ہے۔اس وقت اس کا نام اس نبی کا ہوتا ہے۔یہی سِر ہے جو انجیل۱ میں لکھا ہے۔مسیح نہ آئے گا جب تک ایلیا نہ آئے۔اور دوسرے مقام پر ایلیا کے آنے سے مراد اس کی خُو اور طبیعت اور طاقت پر آنے سے لی گئی ہے۔پس مہدی کے متعلق جو کہا گیا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر آئے گا اس سے یہی مراد ہے کہ وہ ظلی اور بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہوگا۔بعثت مسیح موعود کے مقاصد میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔مسلمانوں کے لیے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہوجائیں۔وہ ایسے سچے ۱ لفظ ’’بائبل ‘‘ ہونا چاہیے۔غالباًسہو کتابت سے ’’انجیل‘‘ لکھا گیا ہے۔(مرتّب)