ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 347

کلام اتر رہا ہے اور آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔چونکہ ایک سلسلہ حقہ قائم ہوا ہے۔ضروری تھا کہ اس کے ساتھ جھوٹے مدعی اورمفتری بھی ہوتے جو اکثروں کو گمراہ کرتے۔پس ہر شخص کا فرض ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ سے کشودِ کار کے لیے دعا کرے اور دعاؤں میں لگا رہے۔ہمارے سلسلہ کی بنیاد نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر ہے۔پھر اس سلسلہ کی تائید اور تصدیق کےلیے اللہ تعالیٰ نے آیات ارضیہ اور سماویہ کی ایک خاتم ہم کو دی ہے۔یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اسے ایک مہر دی جاتی ہے اور وہ مہر محمدی مہر ہے جس کو نا عاقبت اندیش مخالفوںنے نہیں سمجھا۔میں بڑے یقین اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔وہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے جو آپ کے خلاف کسی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اور آپ کی نبوت سے الگ ہو کر کوئی صداقت پیش کرتا ہے اور چشمہ نبوت کو چھوڑتا ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختم نبوت کو توڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا جس کے پاس وہی مہر نبوت محمدی نہ ہو۔ہمارے مخالف الرائے مسلمانوں نے یہی غلطی کھائی ہے کہ وہ ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر اسرائیلی نبی کو آسمان سے اتارتے ہیں۔اور میں یہ کہتا ہوںکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور آپؐکی ابدی نبوت کا یہ ادنیٰ کرشمہ ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی آپ ہی کی تربیت اور تعلیم سے مسیح موعود آپ کی امت میں وہی مہر نبوت لے کر آتا ہے۔اگر یہ عقیدہ کفر ہے تو پھر میں اس کفر کو عزیز رکھتا ہوں۔لیکن یہ لوگ جن کی عقلیں تاریک ہوگئی ہیں۔جن کو نورِ نبوت سے حصہ نہیں دیا گیا اس کو سمجھ نہیں سکتے اور اس کو کفر قرار دیتےہیں۔حالانکہ یہ وہ بات ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اور آپ کی زندگی کا ثبوت ہوتا ہے۔مامورین کی تائید اور تصدیق کے لیے نشانات غرض ہر مامور اور راستباز کو اللہ تعالیٰ ایک نشانِ نبوت دیتا