ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 346

ہیں اور ان کی ساری کوششیں اور تگ و دَو دنیا تک محدود ہے لیکن بعض لوگ ہیں تو اسی مردود دنیا کے طلبگار مگر وہ اس پر دین کی چادر ڈالتےہیں۔جب اس چادر کو اٹھایا جاوے تو وہی نجاست اور بد بو موجود ہے۔یہ گروہ پہلے گروہ کی نسبت زیادہ خطرناک اور نقصان رساں ہے۔اکثر لوگ جب ان دینداروں کی حالت کو دیکھتے ہیں تو وہ دہریئے ہو جاتے ہیں۔اس لیے کہ ان کے اعمال کو ان کے اقوال کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا۔سننے والے جب ان کی باتوں کو سن کر پھر ان کے اعمال کو دیکھتے ہیں تو ان کا ایمان بالکل جاتا رہتا ہے اور وہ دہریہ ہوجاتے ہیں۔سلسلہ احمدیہ کے قیام کی وجہ میں دیکھتا ہوں اس وقت قریباً علماء کی یہی حالت ہو رہی ہے۔لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(الصف:۳) کے مصداق اکثر پائے جاتے ہیں اور قرآن شریف پر بگفتن ایمان رہ گیا ہے۔ورنہ قرآن شریف کی حکومت سے لوگ نکلے ہوئے ہیں۔احادیث سے پایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا تھا کہ قرآن آسمان پر اٹھ جائے گا۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ وہی وقت آگیا ہے۔حقیقی طہارت اور تقویٰ جو قرآن شریف پر عمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے آج کہاں ہے؟ اگر ایسی حالت نہ ہوگئی ہوتی تو خدا تعالیٰ اس سلسلہ کوکیوں قائم کرتا۔ہمارے مخالف اس بات کو نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ دیکھ لیں گے کہ آخر ہماری سچائی روزِ روشن کی طرح کھل جائے گی۔خدا تعالیٰ خود ایک ایسی جماعت طیار کر رہا ہے جو قرآن شریف کے ماننے والی ہوگی۔ہر ایک قسم کی ملونی اس میں سے نکال دی جائے گی اور ایک خالص گروہ پیدا کیا جاوے گا اور وہ یہی جماعت ہے۔اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کے احکام کے پورے پابند ہوجاؤ اور اپنی زندگیوں میں ایسی تبدیلی کرو جو صحابہ کرام نے کی تھی۔ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دیکھ کر ٹھوکر کھاوے۔ہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ افترا اور کذب کے سلسلہ سے الگ ہوجاوے۔پس تم دیکھو اور منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو دیکھو۔یہ میں جانتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور زمین پر بارش ہوتی ہے تو جہان میں مفید اور نفع رساں بوٹیاں اور پودے پیدا ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی زہریلی بوٹیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ کا