ملفوظات (جلد 7) — Page 344
بھی زندہ ہیں اور ان پر کبھی فنا آ ہی نہیں سکتی۔صحابہ کرام اور حواریانِ مسیح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں حواریوں کو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔حواریوںکی تعریف میں ساری انجیل میں ایک بھی ایسا فقرہ نظر نہ آئے گا کہ انہوں نے میری راہ میں جان دے دی بلکہ برخلاف اس کے ان کے اعمال ایسے ثابت ہوں گے جس سے معلوم ہو کہ وہ حد درجہ کے غیر مستقل مزاج، غدّار اور بے وفا اور دنیا پرست تھے اور صحابہ کرامؓ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی راہ میں وہ صدق دکھلایا کہ انہیں رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ(البیّنۃ:۹) کی آواز آگئی۔یہ اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جو صحابہؓ کو حاصل ہوا۔یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔اس مقام کی خوبیاں اور کمالات الفاظ میں ادا نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جانا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ یہ توکل، تبتل اور رضا و تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ اور شکایت اپنے مولیٰ سے نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے راضی ہونا یہ موقوف ہے بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی اور طہارت اور کمال اطاعت پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ نے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لیے تھے۔اس کا نمونہ حواریوں میں اگر تلاش کریں تو ہرگز نہیں مل سکتا۔پس نرے سلبِ امراض پر خوش ہوجانا یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے اور روحانی کمالات کا شیدائی ان باتوں پر خوش نہیں ہو سکتا۔اس لیے میں تمہارے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ تم اپنے دل کو پاک کرو اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسے تعلقات پیدا کرو کہ وہ مولیٰ کریم تم سے راضی ہو جاوے اور تم اس سے راضی ہو جاؤ۔پھر وہ تمہارے جسم میں تمہاری باتوںمیں ایسی برکت رکھ دے گا جو سلبِ امراض کر نے والے بھی انہیں دیکھ کر حیران اور شرمندہ ہوں گے۔ایک نکتہ معرفت قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ کوئی صفت مفعول کے صیغہ میں نہیں ہے۔قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں ہے کیونکہ معصوم کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بچانے والا کوئی اور ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنی ذات ہی میں بے عیب اور پاک خدا ہے