ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 342

اسلام، عیسائیت اور آریوں کا خدا کے متعلق نظریہ توحید ماننے والوں میں ایک خاص رعب اور جلال ہوتا ہے جو بت پرست کو حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کا قلب ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے اعتقاد کی بنیاد علوم حقہ پر نہیں ہوتی بلکہ ظنیات اور اوہام پر ہوتی ہے مثلاً عیسائیوں نے یسوع کو خدا بنا لیا مگر کوئی ایسی خصوصیت آج تک دو ہزار برس ہونے کو آئے نہیں بتائی جو یسوع میں ہو اور دوسرے انسانوں میں نہ ہو۔بلکہ جہاں تک انجیل کے بیان کے موافق یسوع کی حالت پر غور کرتے ہیں اسی قدر اسے انسانی کمزوریوں کا بہت بڑا نمونہ پاتے ہیں۔بڑی خصوصیت اقتداری معجزات کی ہوتی ہے لیکن یسوع کی لائف میں اقتداری معجزات کا پتہ نہیں ملتا اور اگر عیسائیوں کے بیان کے موافق بعض مان بھی لیں تو پھر ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اسی رنگ کے اقتداری معجزات یسوع کے معجزات سے کہیں بڑھ چڑھ کر پہلے نبیوں کے بائبل میں موجود ہیں پھر خصو صیت کیار ہی؟ وہ کیا بات تھی جس پر اسے خدا مان لیا گیا؟ اگر ایک مجلس میں اللہ تعالیٰ کے صفات بیان کئے جاویں اور اس میں آریا، عیسائی اور مسلمان موجود ہوں تو اگر کسی کا ضمیر مر نہیں گیا تو بجز مسلمان کے ہر ایک خدا تعالیٰ کے صفات بیان کرنے سے شرمندہ ہوگا مثلاً آریہ کیا یہ بیان کرکے خوش ہوگا کہ میں ایسے خدا پر ایمان لاتا ہوں جس نے دنیا کا ایک ذرّہ بھی پیدا نہیں کیا۔وہ میری روح اور جسم کا خالق نہیں۔مجھے جو کچھ ملتا ہے میرے اپنے اعمال اور افعال کا ثمرہ ہے۔خدا تعالیٰ کا کوئی عطیہ اور کرم نہیں۔میرا خدا مجھے کبھی ہمیشہ کی نجات نہیں دے سکتا۔میرے لیے لازمی ہے کہ میں جونوں کے چکر میں آکر کیڑے مکوڑے بنتا رہوں یا کیا عیسائی صاحب یہ بیان کر کے راضی ہوگا کہ میں ایک ایسے خدا پر ایمان لاتا ہوں جو ناصرہ نام بستی میں یوسف نجار کے گھرمعمولی بچوں کی طرح پیدا ہوا تھا۔وہ معمولی بچوں کی طرح روتا چلاتا اور کبھی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ماں باپ سے تھپڑ بھی کھاتا تھا۔اسے اتنی بھی خبر نہ تھی کہ وہ انجیر کے پھل کے موسم کا علم رکھتا۔وہ ایسا غصہ ور تھا کہ درختوں تک کو بد دعائیں دیتا تھا۔وہ آخر میرے گناہوں کی وجہ سے صلیب پر لعنتی ہوا۔اور