ملفوظات (جلد 7) — Page 341
ان خبروں میںایک طاقت ہوتی ہے جو دوسروں کو نہیں دی جاتی۔نجومی جو خبریں دیتا ہے ان میں وہ طاقت اور جبروت نہیں ہوتی جو مامور کی خبروں میں ہوتی ہے۔علاوہ بریں مامور کی خبریں ایسی ہوتی ہیں کہ فراست اور قیافہ پر ان کی بنا نہیں ہو سکتی مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی زندگی میں جو بالکل بے سرو سامانی اور بیکسی کی زندگی تھی اپنی کامیابی اور دشمنوں کی ناکامی اور نامرادی کی پیشگوئی کی تھی۔کیا کوئی عقلمند اور ملکی مدبّر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کی حالت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ شخص کامیاب ہوجائے گا اور وہ قوم جو اس کی مخالفت پر آمادہ ہے۔ذلت کے ساتھ نامراد رہے گی؟ پھر دیکھ لو کہ انجام کیا ہوا؟ پس یہ ایک زبردست نشان مامور کو دیاجاتا ہے۔عیسائیت کا انجام اور اسلام کا مستقبل عیسائیوں کے حملے اسلام پر اس صدی میں بہت تیزی کے ساتھ ہوئے ہیں۔ان کی زبان درازی اور چھیڑ چھاڑ بہت بڑھ گئی۔اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایک دم میں ان کی مخالفانہ کارروائیوں کا فیصلہ کر دیتا مگر وہ اپنا فیصلہ روزِ روشن کی طرح دکھانا چاہتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اس مذہب کی حقیقت دنیا پر کھل جاوے۔شیطان کی آدم کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے ملائکۃ اللہ آدم کے ساتھ ہیں اور اب شیطان ہمیشہ کے لیے ہلاک کر دیا جائے گا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میری طرف سے اس مُردہ پرستی کے دور کرنے کے لیے کوئی تحریک نہ بھی ہوتی اور خدا تعالیٰ مجھے بھی نہ بھیجتا تب بھی اس مذہب کی حالت ایسی ہوچکی تھی کہ یہ خود بخود نمک کی طرح پگھل جاتا۔میں خدا تعالیٰ کی تائیدوں اور نصرتوں کو دیکھ رہا ہوں جو وہ اسلام کے لیے ظاہر کر رہا ہے اور میں اس نظارہ کو بھی دیکھ رہا ہوں جو موت کا اس صلیبی مذہب پر آنے کو ہے۔اس مذہب کی بنیاد محض ایک لعنتی لکڑی پر ہے جس کو دیمک کھا چکی ہے اور یہ بوسیدہ لکڑی اسلام کے زبردست دلائل کے سامنے اب ٹھیر نہیں سکتی۔اس عمارت کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔اب وقت آتا ہے کہ یکدم یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوگی۔اور وہ اس مُردہ پرستی کے مذہب سے بیزار ہو کر حقیقی مذہب اسلام کو اپنی نجات کا ذریعہ یقین کریں گے۔