ملفوظات (جلد 7) — Page 336
کہ اس کی کیا حالت تھی۔اس کی زندگی کی کوئی امید بھی باقی نہ تھی۔۱ ایسا ہی خود میرا لڑکا مبارک ایسی حالت تک پہنچ گیا تھا کہ گھر والوں نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ بھی پڑھ دیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے پھر اسے زندہ کر دیا۔یہ احیاءِ موتیٰ ہوتا ہے۔اور علاوہ اس کے روحانی احیاء بھی ہوتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں سے بے خبر ہوتے ہیں اور ان کی زندگی ایک گمراہی کی زندگی ہوتی ہے وہ بھی مُردہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ روحانی طور پر مرچکے ہوتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کا ہدایت یاب ہوجانا یہ ان کا زندہ ہونا ہے۔یہ حقیقت احیاء موتیٰ کی ہے جو قرآن شریف نے بیان کی ہے اور اسی کے موافق خدا تعالیٰ سے علم پاکر میں نے اس کی تصریح کی۔اب اگر یہ انکارِ معجزات ہے ایسا الزام لگانے والا خود سوچ لے کہ وہ مجھے منکر نہیں ٹھیراتا بلکہ خود قرآن شریف سے انحراف اور انکار کرتا ہے۔یہ کس قدر نا سمجھی اور نا واقفی کی بات ہے کہ انسان اس طرز اور کلام کو اختیار کرے جس میں قرآن شریف پر حملہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہو۔میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کو معجزاتِ مسیح پیارے ہیں یا خدا تعالیٰ کا کلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم؟ یہ اگر معجزاتِ مسیح کے لیے خدا کے کلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں۔ہم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو چھوڑ دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کریں۔اس عقیدہ پر اگر ساری دنیا مجھ کو چھوڑتی ہے تو چھوڑ دے مجھے اس کی پروا نہیں اس لیے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔ان کو اعتراض کا حق تو اس وقت ہوتا جب ہم خدا تعالیٰ کے کلام کے خلاف کرتے۔لیکن جب ہم خدا تعالیٰ کے کلام کے بالکل موافق کہتے ہیں تو پھر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کےکلام پر اعتراض ہے نہ مجھ پر۔اگر مسیح واقعی مُردوں کو زندہ کرتے تھے یعنی ایسے مُردوں کو جو قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ کے نیچے آچکے تھے تو پھر کیوں انہوں نے ایلیاء کو زندہ کر کے نہ دکھا دیا تاکہ یہودی ٹھوکر نہ کھاتے اور خود بھی