ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 334

اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔اور پھر سچ تو یہ ہے کہ اصل بات نیت پر موقوف ہے۔جو شخص صرف حفظ کرنے کی نیت سے پڑھتا ہے وہ تو وہیں تک رہتا ہے اور جو شخص روحانی تعلق کو بڑھا لیتا ہے۔۱ حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک آیت اتنی مرتبہ پڑھتا ہوں کہ وہ آخر وحی ہو جاتی ہے۔صوفی بھی اسی طرف گئے ہیں اور وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا کے یہ معنے ہیں یعنی اس قدر ذکر کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کا نام کنٹھ ہوجاوے۔انبیاء علیہم السلام کے طرز کلام میں یہ بات عام ہوتی ہے کہ وہ ایک امر کو بار بار اور مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ تا مخلوق کو نفع پہنچے۔میں خود دیکھتا ہوں اور میری کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اگر چار صفحے میری کسی کتاب کے دیکھے جاویں تو ان میں ایک ہی امر کا ذکر پچاس مرتبہ آئے گا اور میری غرض یہی ہوتی ہے کہ شاید پہلے مقام پر اس نے غور نہ کیا ہو اور یونہی سر سری طور سے گذر گیا ہو۔قرآن شریف میں اعادہ اور تکرار کی بھی یہی حکمت ہے۔یہ تو احمقوں کی خشک منطق ہے جو کہتے ہیں کہ بار بار تکرار سے بلاغت جاتی رہتی ہے۔وہ کہتے رہیں۔قرآن شریف کی غرض تو ایک بیمار کا اچھا کرنا ہے۔وہ تو ضرور ایک مریض کو بار بار دوا دے گا۔اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں تو پھر ایسے معترض جب کوئی ان کے ہاں بیمار ہوجاوے تو اسے بار بار دوا کیوں دیتے ہیں۔اور آپ کیوں دن رات کے تکرار میں اپنی غذا لباس وغیرہ امور کا تکرار کرتےہیں؟ پچھلے دنوں میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک انگریز نے محض اسی وجہ سے خود کشی کر لی تھی کہ بار بار وہی دن رات اور غذا مقرر ہے اور میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔معجزات مسیح کی حقیقت معجزات مسیح کے متعلق کہا گیا کہ ازالہ میں جو تصریح کی گئی ہے۔اس سے انکار پایا جاتا ہے۔فرمایا۔تعجب کی بات ہے کہ وہ انکار ہے؟ یا اقرار۔معجزات مسیح کا تو اقرار کیا گیا ہے اور ہم اب