ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 333

عجائب خانہ میں جا کر بعض جانور اس قسم کے دیکھے گئے ہیںکہ گویا وہ ایک خوبصورت چھینٹ ہیں۔ان ساری باتوں پر نظر کر کے معلوم ہوتا ہے کہ رنگینی خلق خدا تعالیٰ کی عادت ہے۔یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض جانور انڈے خود دیتے ہیں اور اس کے بچے اَور جانور نکالتے ہیں۔کوئل انڈے خود دیتی ہے اور کوے کے آشیانہ میں رکھ دیتی ہے۔پس جس جس قدر کوئی مخلوقات الٰہی کا اور افعال اللہ کا مشاہدہ کرے گا۔اسی قدر اس کا تعجب بڑھتا جائے گا۔اسی طرح اس کے اقوال میں لاانتہا اسرار ہوتے ہیں جن کا مشاہدہ افعال اللہ کی خورد بین سے ہو جاتا ہے۔حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ شاعر اور فصیح تو اس طرزبیان پر اعتراض کر ہی نہیں سکتا۔اس لیے کہ خود ان کو اس امر کا التزام کرنا پڑتا ہے۔پھر حضرت حجۃ اللہ نے اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(الرحـمٰن:۱۴) بار بار توجہ دلانے کے واسطے ہیں۔اسی تکرار پر نہ جاؤ۔قرآن شریف میں اور بھی تکرار ہے۔میں خود بھی تکرار کو اسی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔میری تحریروں کو اگر کوئی دیکھتا ہے تو وہ اس تکرار کو بکثرت پائے گا۔حقیقت سے نا خبر انسان اس کو منافی بلاغت سمجھ لے گا۔اور کہے گا کہ یہ بھول کر لکھا ہے۔حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید پڑھنے والا پہلے جو کچھ لکھا ہے اسے بھول گیا ہو۔اس لیے بار بار یاد دلاتا ہوں۔تاکہ کسی مقام پر تو اس کی آنکھ کھلے۔اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔علاوہ بریں تکرار پر اعتراض ہی بے فائدہ ہے۔اس لیے کہ یہ بھی تو انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں وہ یاد نہیں ہوتی۔سُبْـحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی اور سُبْـحَانَ رَبِّیَ الْعَظیْمُ بار بار کیوں کہلوایا؟ ایک بار ہی کافی تھا۔نہیں۔اس میں یہی سِر ہے کہ کثرت تکرار اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اُذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(الانفال:۴۶) یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔جس طرح پر ذہنی تعلق ہوتا ہے اور کثرت تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی حاجت ہے۔بِدُوں تکرار وہ روحانی پیوند